دو تصویریں اور دو کہانیاں

پہلے تصویر میں شکاری شیر کی طرح امریکیوں پر نظریں جمائے ہوئے انتہائی مہذب طریقے بیٹھے ہوئے وہی ملا ضعیف ہیں۔ جسے فرعونِ وقت، رذیل اعظم جنرل پرویز مشرف نے بے آبرو کرنے کی کوشش کی اور سفارتی اصولوں کی دھجیاں اڑا کر امریکیوں کے حوالے کیا۔

جیل صعوبتیں برداشت کی اور مصیبتوں کے دریا عبور کئے۔
ننگا کرکے بھوکے کتے چھوڑے گئے۔ لوہے سے داغا گیا۔

کوئی ظلم نہیں چھوڑا جو ان پر نہ کیا ہو۔
لیکن پھر اللہ کی شان دیکھیں۔
وہی ملا ضعیف اب امریکیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال اپنے مطالبات منوا رہا ہے اور سرخ امریکی سور ان کے سامنے بھیگی بلی بنی ہوئی ہے۔
جبکہ اب دوسرا تصویر ملاحظہ ہو۔
وہی فرعونی لہجے میں خود کو خدا سمجھنے والا پرویز مشرف جس نے سفارتکار ملا ضعیف کو قیدی بنا کر اپنے ناجائز باپ امریکہ کو پیش کیا تھا۔ اب اللہ کے غضب کا شکار ہیں اور ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ زندگی سے زیادہ موت کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ کمانڈو بن کر مکا لہرانے والا کتے کی موت مر رہا۔

Advertisements