ملا محمد عمرؒ مجاہد کے کارنامے

___ ملا محمد عمرؒ مجاہد کے کارنامے ___
ازقلم: حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب
ملا محمد عمرؒ کی حکومت کے تین کارناموں کا آج بھی بین الاقوامی سطح پر اعتراف کیا جاتا ہے:
لارڈز وار کا خاتمہ یعنی سرداروں کی ان علاقائی حکومتوں اور باہمی جنگوں کا خاتمہ جس کا عام حالات میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
انہوں نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں عام افغان آبادی کو غیر مسلح کر دیا، یعنی ہر شخص سے اسلحہ واپس لے کر افغانستان جیسے ملک میں ’’ویپن لیس سوسائٹی‘‘ کا عملی نمونہ پیش کیا۔
ہیروئن بنانے والے پوست کی کاشت جو طالبان کے دور سے پہلے کبھی کنٹرول ہوئی اور نہ ہی ان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سے اب تک ممکن ہو سکی ہے، بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق ملا محمد عمرؒ کے ایک حکم سے ایسے ختم ہوئی کہ ان کے حکومتی دائرہ میں شامل علاقوں میں ایک پودا بھی کاشت نہ ہونے کا محاورہ بولا جانے لگا۔
یہ تو وہ باتیں ہیں جو بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کا حصہ ہیں اور ان کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے، جبکہ ہمارے نزدیک ان کے ساتھ ان امور کو شامل کرنا بھی ضروری ہے۔
شرعی احکام و قوانین کا عملی نفاذ اور عوام کو شریعت اسلامیہ کے مطابق انصاف کی فراہمی۔
گڈ گورننس اور سادہ و فطری انداز حکمرانی کا ایسا نمونہ کہ بلا شبہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی یاد تازہ ہوگئی۔
امن عامہ اور لوگوں کی جان و مال اور آبرو کا اس درجہ میں تحفظ کہ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے کابل کے بازاروں میں دکانداروں کو دکانیں کھلی چھوڑ کر نماز کے لیے مسجد میں جاتے دیکھا ہے۔ مجھے اس سلسلہ میں ایک ذاتی واقعہ کبھی نہ بھولے گا کہ ایک بار میں چند روز کے لیے کابل گیا ہوا تھا۔ پل خشتی کی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد بازار کی طرف نکلا تو چند سکھوں کی دکانیں دکھائی دیں۔ میں ایک دکان میں بلا تکلف گھس گیا اور ٹھیٹھ پنجابی زبان میں جب دکاندار کا حال احوال دریافت کیا تو وہ بہت خوش ہوا۔ کچھ دیر ہمارے درمیان گفتگو رہی، میں نے اس سے پوچھا کہ سردار جی ! یہ مولوی جب سے آئے ہیں آپ کیا تبدیلی دیکھ رہے ہیں؟ اس نے بے تکلفی سے کہا کہ جب سے یہ مولوی آئے ہیں ہم آرام کی نیند سوتے ہیں۔ میں نے تفصیل پوچھی تو اس نے بتایا کہ پہلے ہر وقت خوف و ہراس کی کیفیت رہتی تھی، میرے دو بیٹے جوان ہیں، ہم تینوں باری باری آٹھ آٹھ گھنٹے پہرہ دیتے تھے، اور باقی گھر والے سوتے تھے۔ جب سے ان مولویوں کی حکومت آئی ہے ’’ایہہ مولبی پہرہ دیندے آ، تے اسی سکھ دی نیند سوندے ہاں‘‘۔ یہ مولوی پہرہ دیتے ہیں اور ہم آرام کی نیند سوتے ہیں۔
(روزنامہ اسلام، یکم اگست 2015ء)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s