شان حضرت عمر رضی اللہ عنہ

رسول _ پاک کے پہلو میں ہے قیام _ عمر
یہ لوگ پھر بھی سمجھتے نہیں مقام _ عمر

وہ نصف دنیا کا حاکم ، وہ نامئ _ انصاف
جہاں میں کون ہوا ثانئ _ امام _ عمر

زمانہ آج بھی انصاف کو ترستا ہے
” زمانہ آج بھی ہے طالب _ نظام _ عمر “

عمر تو میرے نبی کی دعا کا ثمرہ ہے
کہاں فقیر یہ مجھ سا کہاں مقام _ عمر

مرا تو دین ہے الفت کا ، احترام کا دین
مری طلب ہے علی میں ، مری دعا میں عمر

میں کیسے ان سے مراسم کو استوار کروں
کہ وہ ہیں شمر کی اولاد ، میں غلام _ عمر

کسی جگہ سے عزازیل کو بھگانا ہو
بس ایک نام ہی کافی ہے ، ایک نام _ عمر

مری دعا ہے وہ آتش نصیب ہو نادر
دراز جو بھی زباں ہو براۓ نام _ عمر

نادر صدیقی

Advertisements

India raises Pakistan ‘terror bogey’, left red-faced after plot exposed

Indian security forces keep the bogey of a Pakistan threat alive. And regrettably, in their media they find a willing partner which thrives on the demonisation of Pakistan. Professional ethics are thrown to the wind when it comes to Pakistan.

The Indians would blame Pakistan for anything and everything that goes wrong in their country. They would even shoot down a pigeon flying over the border, ludicrously calling it ‘Pakistani spy’.

In the latest incident, the Indian police put up posters across New Delhi showing what they called two ‘Pakistani terrorists’ on the prowl in the capital to carry out a Mumbai-style attack.

For the Indian media, it was godsend at a time when it was looking for something sensational to sell on the 10th anniversary of the 2008 terrorist attacks in Mumbai.

India claims nabbing another ‘Pakistani spy pigeon’

However, the Indian police and media had to face huge embarrassment when it turned out that the “two terrorists” who they claimed were on the prowl in Delhi are seminary students — Muhammad Tayyab and Nadeem — and that they are at their home in Faisalabad district of Punjab.

To add insult to injury, the two students, along with their teachers, addressed a hurriedly called news conference to expose India’s white lie.

At the presser, Maulana Muhammad Zahid, an official from the Jamia Islamia Imdadia, the seminary where Tayyab and Nadeem are enrolled, said that the two students were photographed with a milestone after the visited Lahore to attend the tableeghi ijtima in Raiwind, Lahore.

He clarified that the two young men, who belong to Azad Kashmir, are students of Dars-e-Nizami, at Jamia Islamia Imdadia and that they did not belong to any terrorist group.

“We are very specific about not letting our students indulge in any political or religious affairs as long as they are affiliated with our institution,” he added. “If they [Indians] are scared of pigeons, then they will obviously be scared of maulvis,” he said amusingly.

Indians say ‘spy pigeon’ has returned to Pakistan

On their part, the students said they were in Jamia Islamia Imdadia for education and that the Indian government was only trying to malign Pakistan. They added that they and the seminary administration decided to clear the air after the Indian police created a hype based on the photo they had shared on Facebook.

According to the Indian media, Delhi was put on high alert after intelligence agencies had informed that two suspected terrorists from the Jaish-e-Mohammed terrorist group are in the city and may seek to carry out an attack.

According to The Hindustan Times, the Delhi police released a photo where the “two terrorists” are seen leaning on a milestone that reads Firozpur 9 kilometres and Delhi 360 kilometres. “Anybody who spots them is requested to call Paharganj police station on 011-23520787 or 011-2352474,” read the police advisory.

The police said they were keeping a check on all the hotels, lodges and guesthouse that have foreign customers besides stepping up vigilance at the entry points to the city.

ملا محمد عمرؒ مجاہد کے کارنامے

___ ملا محمد عمرؒ مجاہد کے کارنامے ___
ازقلم: حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب
ملا محمد عمرؒ کی حکومت کے تین کارناموں کا آج بھی بین الاقوامی سطح پر اعتراف کیا جاتا ہے:
لارڈز وار کا خاتمہ یعنی سرداروں کی ان علاقائی حکومتوں اور باہمی جنگوں کا خاتمہ جس کا عام حالات میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
انہوں نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں عام افغان آبادی کو غیر مسلح کر دیا، یعنی ہر شخص سے اسلحہ واپس لے کر افغانستان جیسے ملک میں ’’ویپن لیس سوسائٹی‘‘ کا عملی نمونہ پیش کیا۔
ہیروئن بنانے والے پوست کی کاشت جو طالبان کے دور سے پہلے کبھی کنٹرول ہوئی اور نہ ہی ان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سے اب تک ممکن ہو سکی ہے، بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق ملا محمد عمرؒ کے ایک حکم سے ایسے ختم ہوئی کہ ان کے حکومتی دائرہ میں شامل علاقوں میں ایک پودا بھی کاشت نہ ہونے کا محاورہ بولا جانے لگا۔
یہ تو وہ باتیں ہیں جو بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کا حصہ ہیں اور ان کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے، جبکہ ہمارے نزدیک ان کے ساتھ ان امور کو شامل کرنا بھی ضروری ہے۔
شرعی احکام و قوانین کا عملی نفاذ اور عوام کو شریعت اسلامیہ کے مطابق انصاف کی فراہمی۔
گڈ گورننس اور سادہ و فطری انداز حکمرانی کا ایسا نمونہ کہ بلا شبہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی یاد تازہ ہوگئی۔
امن عامہ اور لوگوں کی جان و مال اور آبرو کا اس درجہ میں تحفظ کہ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے کابل کے بازاروں میں دکانداروں کو دکانیں کھلی چھوڑ کر نماز کے لیے مسجد میں جاتے دیکھا ہے۔ مجھے اس سلسلہ میں ایک ذاتی واقعہ کبھی نہ بھولے گا کہ ایک بار میں چند روز کے لیے کابل گیا ہوا تھا۔ پل خشتی کی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد بازار کی طرف نکلا تو چند سکھوں کی دکانیں دکھائی دیں۔ میں ایک دکان میں بلا تکلف گھس گیا اور ٹھیٹھ پنجابی زبان میں جب دکاندار کا حال احوال دریافت کیا تو وہ بہت خوش ہوا۔ کچھ دیر ہمارے درمیان گفتگو رہی، میں نے اس سے پوچھا کہ سردار جی ! یہ مولوی جب سے آئے ہیں آپ کیا تبدیلی دیکھ رہے ہیں؟ اس نے بے تکلفی سے کہا کہ جب سے یہ مولوی آئے ہیں ہم آرام کی نیند سوتے ہیں۔ میں نے تفصیل پوچھی تو اس نے بتایا کہ پہلے ہر وقت خوف و ہراس کی کیفیت رہتی تھی، میرے دو بیٹے جوان ہیں، ہم تینوں باری باری آٹھ آٹھ گھنٹے پہرہ دیتے تھے، اور باقی گھر والے سوتے تھے۔ جب سے ان مولویوں کی حکومت آئی ہے ’’ایہہ مولبی پہرہ دیندے آ، تے اسی سکھ دی نیند سوندے ہاں‘‘۔ یہ مولوی پہرہ دیتے ہیں اور ہم آرام کی نیند سوتے ہیں۔
(روزنامہ اسلام، یکم اگست 2015ء)

عشق مصطفی

ادائے عاشقان حق ادا کرنے کے دن آئے
ناموس مصطفی پر جاں فدا کرنے کے دن آئے

جو بھونکے مصطفی جیسی مقدس پاک ہستی کو
لعین ایسے کا تن سے سر جدا کرنے کے دن آئے
ناموس مصطفی پر جان فدا کرنے کے دن آئے

مصلہ بیچ کر خنجر خرید ائے صوفی دوراں
قلب کفر پہ ماتم بپا کرنے کے دن آئے

جو ہیں مصروف تسبیحات و چلہ ان سے کہتا ہوں
دعائیں ہو چکی حضرت دوا کرنے کے دن آئے

شہید عشق ~ارشد غازی علم الدین کے جانے سے
جو پیدا ہو چکا پُر خلاء کرنے کے دن آئے