Quotes Of Osama Bin Laden

“Jihad will continue even if i am not around”

Osama Bin Laden

Advertisements

اسامہ بن لادن شہید

اسامہ بن لادن کا مکمل نام اسامہ بن محمد بن عوض بن لادن ،اسامہ بن لادن 10 مارچ 1957ء کو سعودیہ عرب کے دار الحکومت ریاض میں پیدا ہوئے۔اسامہ بن لادن کا تعلق سعودی عرب کے مشہور رئیس خاندان بن لادن خاندان سے ہے۔ اسامہ بن لادن محمد بن عوض بن لادن کے صاحبزادے ہیں جو شاہ فیصل کے خاص دوستوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ بن لادن کا کاروبار پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلا ہوا ہے۔ اسامہ شہید کے بقول ان کے والد نے امام مہدی علیہ اسلام کی مدد کے لیے کروڑوں ڈالر کا ایک فنڈ قائم کیا تھا۔ اور وہ ساری زندگی امام مہدی کا انتظام کرتے رہے۔جس دور میں سعودی حکومت کے پاس کوئی ہوائی جہاز نا تھا اس دور میں اسامہ کے والد کے پاس کئی جہاز تھے جس کے زریعے وہ فجر کی نماز مسجد حرم اور ظہر کی نماز مسجد اقصی میں ادا کرتے۔اسامہ بن لادن نے ابتدائی تعلیم سعودی عرب سے ہی حاصل کی بعد ازاں انہوں نے ریاض کی کنگ عبد العزیز یونیورسٹی سے ماسٹر ان بزنس ایڈمنسٹریشن (MBA)کیا۔ اسامہ بن لادن کے بارے میں بعض مغربی صحافیوں کا ماننا ہے کہ انہوں نے لندن کی کسی یونیورسٹی سے انجینئری کی ڈگری حاصل کی تھی،
80 کے عشرے میں اسامہ بن لادن مشہور عرب عالم دین شیخ عبد اللہ عظائم کی تحریک پر اپنی تمام خاندانی دولت اور عیش و آرام کی زندگی کو خیر باد کہہ کر کمیونسٹوں سے جہاد کرنے کے لیے افغانستان آ گئے۔
امریکا نے کویت کا بہانہ بنا کر عراق پرحملہ کر دیا تو دوسری طرف وہ سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات کا بہانہ بنا کر شاہ فہد کی دعوت پر مقدس سرزمین میں داخل ہو گیا۔ تاہم اس موقع پر اسامہ بن لادن نے مقدس سرزمین پر امریکی فوجیوں کی آمد کی پر زور مخالفت کی اور شاہ فہد کو یہ تجویز دی کہ عراق کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اسلامی فورس تشکیل دی جائے اور امید دلائی کہ وہ اس کام کے لیے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کریں گے تاہم خادم حرمین الشرفین شاہ فہد نے شیخ اسامہ کے مشورے کو یکسر نظر انداز کرکے امریکیوں کو مدد کی اپیل کر دی۔ جس کے نتیجے میں شاہی خاندان اور اسامہ کے مابین تلخی پیدا ہو گئی اور بالآخر 1992ء میں اسامہ بن لادن کو اپنا ملک چھوڑ کر سوڈان جانا پڑا۔امریکہ نے سوڈان پر بھی دباؤ ڈالنا شروع کر دیا آخر کار اسامہ شہید کو سوڈان کو بھی خیر آباد کہنا پڑا۔دوسری طرف افغانستان پر طالبان اسلامی امارت قائم کر چکے تھے۔شیخ پرائیویٹ چارٹرڈ جہاز کے ذریعے افغانستان پہنچے جہاں انہیں طالبان کے امیر ملا محمد عمر اخوند شہید کی جانب سے امارات اسلامیہ افغانستان میں سرکاری پناہ دی گئی۔ اسامہ بن لادن شہید نے افغانستان کے مانوس ماحول میں بیٹھ کر اپنی تنظیم القاعدہ کو ازسر نو منظم کیا اور دنیا بھر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کاروائیاں تیز کر دیں۔ اسامہ بن لادن نے اپنے جہادی ٹھکانے زیادہ تر جلال آباد سے قریب تورا بورا میں قائم کیے۔ 1997ء میں امریکی صدر بل کلنٹن نے اسامہ بن لادن کی حوالگی کے لیے طالبان پر دباؤ ڈالا مگر طالبان نے اپنے مہمان کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔جس کے بعد طالبان اور امریکا میں تلخی کافی بڑھ گئی۔
امریکی حکومت نے 11 اکتوبر2001ء کو امریکا کے شہروں نیو یارک اور واشنگٹنمیں پر ہونے والے حملوں کا الزام محض ایک گھنٹے کے اندر ہی ہزاروں میل دور بیٹھے اسامہ بن لادن پر لگا دیا۔ تاہم اسامہ بن لادن نے اس واقعہ میں ملوث ہونے سے واضح انکار کیا۔ اس کے باوجود دنیا کے سب سے طاقتور ملک نے اقوام متحدہ کی منظوری کے ساتھ چالیس ملکوں کے ساتھ مل کر اکتوبر 2001ء کے وسط میں دنیا کے کم زور ترین اور پسماندہ ترین ملکوں میں سے ایک افغانستان پر دھاوا بول دیا۔تاہم سات سال گزر جانے کے باوجود اسے اپنے بنیادی مقصد یعنی اسامہ بن لادن کو پکڑنے اور القاعدہ کو ختم کرنے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔اس دورانیہ میں متعدد بار اسامہ بن لادن کی موت کی خبریں گردش کرتی رہی لیکن پھر شیخ کا آڈیو یا ویڈیو پیغام آ جاتا جو امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کے لیے سر درد بن جاتا، بالآخر کئی سال کے تعاقب کے بعد یکم اور دو مئی 2011ء کی درمیانی شب تین امریکی فوجی ہیلی کاپٹر نے پاکستانی سرحد عبور کر کے ایبٹ آباد کے ایک مکان پر دھاوا بول دیا جسمیں اسامہ بن لادن کے ساتھ ان کے بیوی بچے موجود تھے۔جس کے نتیجے میں شیخ اسامہ بن لادن نے جام شہادت نوش فرمائی۔
اسامہ بن لادن کی شہادت کے بعد آج سات سال گزرنے کے باوجود بھی عبداللہ بن عزام اور اسامہ بن لادن کے پیروکاروجانشین اپنے نظریے اور کاز پر پابند ہیں اور امریکی و سامراجی قوتوں کے ساتھ پنجہ ازمائی کیے ہوئے ہیں۔اللہ رب العزت اسامہ بن لادن کے درجات بلند فرمائے اور مجاھدین اسلام کی جو امت مسلمہ کا درد لیے کفار کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہیں کی مدد ونصرت فرمائے