نام ونسب :
ابو عبد الرحمن معاویہ ؓ بن ابو سفیان ؓ بن صخر بن حرب بن عبد شمس بن عبد مناف قریشی۔
پیدائش :
حضور اکرم ﷺ کی بعثت سے تقریباً ۵ سال قبل پیدا ہوئے ۔
اسلام قبول کرنے سے پہلے : حضرت معاویہ ؓ سردار قریش ابو سفیان کے صاحبزادے تھے ، آپ ؓ کا شمار قریش کے ان 17 ِافرا دمیں ہوتا تھا جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایہ والنہایہ میں اس سلسلہ میں آپ رضی اللہ کی والدہ ہندؓ بنت عتبہ ،والد ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور ایک قیافہ شناس کے اقوال نقل کئے ہیں فرماتے ہیں :” ایک مرتبہ جبکہ آپ رضی اللہ نوعمر ہی تھے آپ رضی اللہ عنہ کے والد ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ کی طرف دیکھ کہ کہا : میرا بیٹا بڑے سروالا ہے اور اس قابل ہے کہ اپنی قوم کا سردار بنے “۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ نے اپنے شوہر کے یہ الفاظ سنے تو کہنے لگیں : آپ صرف اپنی قوم کی سرداری کی بات کررہے ہیں ۔ اس کی ماں اس کو روئے اگر یہ پورے عالم عرب کا قائد اور سردار نہ بنے ۔ ایک قیافہ شناس نے آپ ؓ کو دیکھا جب کہ آپ رضی اللہ عنہ بچے ہی تھے تو کہنے لگا ” یہ اپنی قوم کا سردار بنے گا “ ۔
اسلام کے دامن رحمت میں:
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قبول اسلام کا اعلان فتح مکہ 8 ھ کے موقع پر فرمایا ، لیکن اس سے بہت عرصے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کے دل میں اسلام داخل ہوچکا تھا ،جس کا ایک اہم اور واضح ثبوت یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر، جنگ احد، جنگ خندق اور صلح حدیبیہ میں حصہ نہیں لیا ، حالانکہ آپ رضی اللہ عنہ جوان اور فنون حرب وضرب کے ماہر تھے نیز آپ رضی اللہ عنہ کے والد ان معرکوں میں قریش کے صف اول کے قائدین میں شمار کئے جاتے تھے ۔ فتح مکہ میں چونکہ آپ رضی اللہ عنہ کے والدین بھی مشرف بہ اسلام ہوگئے تھے ،اس لئے حالات سازگار دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے قبول اسلام کاا علان کردیا ۔ اس سے پہلے قبول اسلام کا اعلان نہ کرنے کی وجہ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے: ” میں عمرة القضا سے بھی پہلے اسلام لاچکا تھا ، مگر مدینہ جانے سے ڈرتا تھا ، جس کی وجہ یہ تھی کہ میری والدہ نے مجھے صاف کہہ دیا تھا کہ اگر تم مسلمان ہوکر مدینہ چلے گئے تو ہم تمہارے ضروری اخراجات زندگی بھی بند کردیں گے “ ( طبقات ابن سعد ؒ)
خدمت نبوی ﷺ میں:
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے شب وروز خدمت نبوی ﷺ میں بسر ہونے لگے آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہءنسب پانچویں پشت میں حضور اکرم ﷺ سے ملتاتھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے خاندان بنو امیہ کے تعلقات قبول اسلام سے پہلے بھی حضور اکرم ﷺ کے ساتھ دوستانہ تھے ، یہی وجہ تھی کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے دار ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو دار الامن قراردے دیا تھا ، نیز حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور حضرت معاویہؓ کی بہن حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم ﷺ کے حرم میں داخل تھیں ۔ حضور اکرم ﷺ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو نہ صرف کاتبین وحی صحابہ رضی اللہ عنہم میں شامل فرمالیا تھا بلکہ دربار رسالت ﷺ سے جو فرامین اور خطوط جاری ہوتے تھے ، ان کو بھی آپ رضی اللہ عنہ لکھا کرتے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی دربار نبوی میں حاضری کے متعلق علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”حضور اکرم ﷺ کے کاتبین میں سب سے زیادہ حاضر باش حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ شب وروز کتابت وحی کے علاوہ آپ رضی اللہ عنہ کا کوئی شغل نہ تھا “ ( جامع السیر )
کتا بت وحی کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللہ عنہ نے دور نبوی ﷺمیں ہونے والے حنین اور طائف کے معرکوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور خوب داد شجاعت دی ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے : ” وہ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں اسلام قبول کرنے سے پہلے مسلمانوں سے لڑتا تھا ، اب آپ ﷺ مجھے حکم دیجئے کہ میں کفار سے جہاد کروں ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ضرور ، جہاد کرو،“

دور خلافت راشدہ رضی اللہ عنہم میں آپ رضی اللہ عنہ کے جہادی کارنامے:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں شام کی طرف جو لشکر بھیجے گئے آپ رضی اللہ عنہ اس کے ہراول دستے میں شامل تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں گورنر شام کی حیثیت سے آپ رضی اللہ عنہ نے روم کی سرحدوں پر جہاد جاری رکھا اور متعدد شہر فتح کئے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں آپ رضی اللہ عنہ نے عموریہ تک اسلام کا پرچم لہرا یا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا ایک اہم جہادی کارمانہ قبرص کی فتح ہے ۔ شام کے قریب واقع یہ حسین وزرخیز جزیرہ اس حیثیت سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا کہ یورپ اور روم کی جانب سے یہی جزیزہ مصر وشام کی فتح کا دروازہ تھا ۔حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سمندری مشکلات کے پیش نظر آپ رضی اللہ عنہ کو لشکر کشی کی اجازت نہیں دی تھی ، لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کے عزم کامل اور شدید اصرار کو دیکھتے ہوئے اجازت مرحمت فرمادی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہاں حملہ کرنے کی غرض سے 500 جہازوں پر مشتمل بحری بیڑہ تیار فرمایا ۔ جب اہل قبرص نے اتنے عظیم بحری بیڑے کو قبرص میں لنگر انداز دیکھا تو ابتدا میں کچھ شرائط پر مسلمانوں سے صلح کرلی، لیکن موقع پاکر عہد شکنی کی اور مسلمانوں کے خلاف رومیوں کومدد فراہم کی چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے دوبارہ حملہ کردیا اور اس اہم جزیرے کو مسخر کرلیا ۔
یہ اسلام کا پہلا بحری بیڑہ تھا اور باتفاق محدثین آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے اس بیڑے میں شامل مجاہدین ہی اس حدیث کا مصداق ہیں جس میں حضور اکرم ﷺ نے بحری جہاد کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری دی ہے ، علاوہ ازیں افرنطیہ ،ملطیہ ،روم کے متعدد قلعے بھی آپ رضی اللہ عنہ نے فتح کئے ۔
عہدے ومناصب اور خلافت:
آپ رضی اللہ عنہ 18 ھ سے 41 ھ تک تقریباً 22 سال گورنری کے منصب پر فائز رہے ۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ 18 ھ میں آپ رضی اللہ عنہ کے برادراکبر حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ طاعون کے باعث شہید ہوگئے ،چنانچہ ان کی جگہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو دمشق کا گورنر مقرر فرمایا ۔ بعد ازاں حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کو ہٹاکر حمص کی اور حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو ہٹا کر جابیہ کی گورنری پر بھی آپ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فلسطین ،اردن اور لبنان بھی آپ رضی اللہ عنہ کی گورنری میں دےدئیے ۔ اس طرح شام کا صوبہ اور اس کے مضافات کے تمام علاقے آپ رضی اللہ عنہ کی عملداری میں آگئے ۔ 41 ھ میں حضر ت حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت سے دستبرداری پر آپ رضی اللہ عنہ خلیفۃ المسلمین بنے ، تمام مسلمانوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے دست حق پر ست پر بیعت کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا دور خلافت تقریباً 20 سال پر محیط ہے ۔
بطور خلیفہ خدمات جلیلہ:
ہم انتہائی اختصار کے ساتھ چند اہم کارناموں کے بیان پر اکتفا کرتے ہیں :۔
1۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دو رخلافت میں فتوحات کا سلسلہ انتہائی برق رفتاری سے جاری رہا اور قلات ، قندھار، قیقان ، مکران ، سیسان ، سمر قند ،ترمذ ،شمالی افریقہ ،جزیرہ روڈس ،جزیرہ اروڈ ،کابل ،صقلیہ (سسلی ) سمیت مشرق ومغرب ،شمال وجنوب کا 22 لاکھ مربع میل سے زائد علاقہ اسلام کے زیر نگیں آگیا ۔ ان فتوحات میں غزوہ قسطنطنیہ ایک اہم مقام رکھتاہے ۔ یہ مسلمانوں کی قسطنطنیہ پر پہلی فوج کشی تھی ، مسلمانوں کا بحری بیڑہ سفیان ازدی رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں روم سے گزر کر قسطنطنیہ پہنچا اور قلعے کا محاصرہ کرلیا ۔
2۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا ایک حصہ موسم سرما میں اور دوسرا حصہ موسم گرما میں جہاد کرتا تھا ۔آپ رضی اللہ عنہ نے فوجیوں کا وظیفہ دگنا کردیا ۔ ان کے بچوں کے بھی وظائف مقرر کردئیے نیز ان کے اہل خانہ کا مکمل خیال رکھا ۔
3۔ مردم شماری کےلئے باقاعدہ محکمہ قائم کیا ۔
4۔ بیت اللہ شریف کی خدمت کےلئے مستقل ملازم رکھے ۔ بیت اللہ پر دیبا وحریر کا خوبصورت غلاف چڑھایا ۔
5۔ تمام قدیم مساجد کی ازسرنو تعمیر ومرمت ،توسیع وتجدید او رتزئین وآرائش کی ۔
6۔ نہروں کے نظام کے ذریعے سینکڑوں مربع میل اراضی کو آباد کیا اور زراعت کو خوب ترقی دی ۔
7۔ نئے شہر آباد کئے اور نو آبادیاتی نظام متعارف کرایا ۔
8 ۔ ڈاک کے نظام کو بہتر بنایا ، اس میں اصلاحات کیں اور باقاعدہ محکمہ بناکر ملازم مقرر کئے ۔
9 ۔ عدلیہ کے نظام میں اصلاحات کیں اور اس کو مزیدترقی دی ۔
10۔ مستقل فوج کے علاوہ رضا کاروں کی فوج بنائی ۔
11۔ بحری بیڑے قائم کئے اور بحری فوج ( نیوی ) کا شعبہ قائم کیا ۔ یہ آپ رضی اللہ عنہ کا تجدیدی کارنامہ ہے ۔
12 ۔ جہاز سازی کی صنعت میں اصلاحات کیں اور باقاعدہ کارخانے قائم کئے ۔پہلا کارخانہ 54 ھ میں قائم ہوا ۔
13 ۔ قلعے بنائے ، فوجی چھاؤنیاں قائم کیں اور ” دارالضرب “ کے نام سے شعبہ قائم کیا ۔
14 ۔ امن عامہ برقرار رکھنے کےلئے پولیس کے شعبے کو ترقی دی جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قائم کیا تھا ۔
15۔ دارالخلافہ دمشق اور تمام صوبوں میں قومی وصوبائی اسمبلی کی طرز پر مجالس شوری قائم کیں ۔
الغرض آپ رضی اللہ عنہ کا دو ر ایک مثالی دور تھا ۔ ابو اسحق السبیعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بلاشبہ وہ مہد ی زماں تھے
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ احادیث وآثار کے آئینے میں :
1۔اے اللہ ! اسے ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعہ اوروں کو ہدایت دے ( حدیث مبارکہ )
2۔اے اللہ ! معاویہ رضی اللہ عنہ کو کتاب وحساب کا علم دے اور اسے عذاب سے محفوظ رکھ ( حدیث مبارکہ )
3۔ اے اللہ ! اس کے سینے کو علم سے بھر دے ۔ ( حدیث مبارکہ )
4۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر بھلائی کےساتھ کرو۔ ( اسے حدیث سمجھنا غلط فہمی ہے ) ( حضرت عمر فاروق ؓ)
5۔ لوگو ! فرقہ بندی سے بچو ۔ اگر تم نے فرقہ بندی اختیار کی تو یاد رکھو معاویہ رضی اللہ عنہ شام میں موجود ہیں ۔ ( حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ )
6۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت کو برا نہ سمجھو کیونکہ جب وہ نہیں ہوں گے تم سروں کو گردنوں سے اڑتا دیکھو گے ( حضر ت علی رضی اللہ عنہ )
7۔ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر امو ر سلطنت وبادشاہت کے لائق کسی کو نہیں پایا۔ ( حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ )
8۔ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد ان سے بڑھ کر حق کا فیصلہ کرنے والا نہیں پایا ۔ ( حضرت سعدؓبن ابی وقاص)
9۔میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر برد بار ،سیادت کے لائق ، باوقار اور نرم دل کسی کو نہیں پایا ۔( حضرت قبیصہؓ بن جابر )
10۔اگر تم معاویہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ پاتے تو تمہیں پتہ چلتا کہ عدل وانصاف کیا ہے ؟ ( امام اعمش ؒ)
جنگ صفین کی آڑلیکر اس عظیم صحابیؓ رسول ﷺکی شان میں زبان درازی کرنے والے اپنی عاقبت خراب کررہے ہیں ۔ ایک مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی بھی صحابی کے خلاف زبان طعن وتنقید دراز کرے ۔صحابہ رضی اللہ عنہم کے کردار کو تاریخ کے آئینے میںدیکھنا ایسا ہے جیسے ہیرے جواہرا ت کا وزن لکڑی تولنے والے سے کرایاجائے ۔
وفات: یہ آفتاب رشد وہدایت ،فاتح بحر وبر اور امام سیاست 22 رجب المرجب 60 ھ میں دمشق میں راہی ملک بقا ہو ا ۔

Advertisements

خلافت کی فرضیت کے دلائل  خصوصیات, خلافت, خلافت کیا ہے؟ 

اسلام کو صرف ریاستی ’’مذہب ‘‘ کا درجہ دے دیا گیا ہے اور سیکولرزم ملک کی نطریاتی اساس قرار پاچکی ہے۔ اور آخرکار کفار اسلام کے نطام خلافت کو مکمل طور پر ہماری زندگیوں سے نکال دینے میں کامیاب ہوگئے۔

’’ہمیں ہر صورت میں ہر اس چیز کو ختم کر دینا چاہیے جو مسلمانوں میں وحدت پیدا کرے۔ جس طور ہم پہلے ہی خلافت کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے پس ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اب کسی طرح مسلمانوں میں کوئی اتحاد نہ پیدا ہو، خواہ وہ فکری ہو یا معاشرتی۔‘‘

(برطانوی وزیر خارجہ کا جنگ عظیم دوم کے شروع سے کچھ لمحوں پہلے برطانوی وزیر اعظم سے خطاب)

’’اب صورت حال یہ ہے کہ ترکی ختم ہو چکا ہے اور اب کبھی بھی دوبارہ نہیں اٹھے گا۔ کیونکہ ہم نے اس کی اصل طاقت ختم کردی ہے یعنی خلافت اور اسلام۔‘‘

برطانوی وزیر خارجہ لارڈ کرز ن کا لاسانے (Lausanne) معاہدے کے بعد اسمبلی سے خطاب (۲۴ جولائی ۱۹۲۴ء)۔

کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ موجودہ دور کے مسلمان اپنے اصل نظام حکومت تک کو نہیں جانتے بلکہ انہوں نے آج تک مسلمانوں کے نشاۃ ثانیہ کے بارے میں کسی بحث ومباحثہ تک میں اس لفظ ’’خلافت‘‘ کو استعمال ہوتے نہیں سنا۔ انگریزوں اور ان کے نظام نے ہمیں اس قدر ’’تعلیم یافتہ‘‘ بنا دیا کہ ہم اُن کے نظام سے چمٹنے اور اپنا دین چھوڑنے کے لئے بھاگے جارہے ہیں ۔ پس آخر یہ خلافت ہے کیا؟ اور یہ کیوں ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے؟

وہ نظام جس کے ذریعے ہم اسلام کے مطابق اپنی زندگی گزارتے ہیں وہ خلافت کا نظام حکومت ہے۔ یہ وہی خلافت راشدہ کا نظام ہے جس کے ذریعے خلفائے راشدین نے اسلام نافذ کیا ۔ اور جو ۳ مارچ ۱۹۲۴ ء تک جاری رہاجب برطانوی ایجنٹ اور غدار مصطفی کمال نے اس کو تباہ کردیا۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

’’اسلام کی گرہیں ایک ایک کرکے الگ کی جاتی رہیں گی حتیٰ کہ تمام گرہیں کھول دی جائیں۔ سب سے پہلی گرہ حکومت کی جب کہ سب سے آخری گرہ صلوۃ کی الگ کی جائے گی۔‘‘ (مسند امام احمد)

خلافت کی فرضیت
قرآن پاک میں ارشاد ہے:

’’نہیں ، اے محمد ﷺ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کرلیں۔‘‘ (۶۵:۴ ۔ النسا )

’’اے نبی ؐ، ہم نے یہ کتا ب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ جو راہِ راست اﷲ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو۔‘‘ (۱۰۵:۴ ۔ النساء)

’’پس اے نبیؐ، تم اﷲ کے نازل کردہ قانون کے مطابق اِن لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرواور ان کی خواہشات کی پیرو ی نہ کرو ۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اس ہدایت سے ذرّہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو اﷲ نے تمہاری طرف نازل کی ہے- (۴۹:۵۔ المائدہ)

’’اور جو لوگ اﷲ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔‘‘ (۴۴:۵ ۔ المائدہ)

’’اور جو لوگ اﷲ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔‘‘ (۴۵:۵ ۔ المائدہ)

’’اور جو لوگ اﷲ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔‘‘‘ (۴۷:۵ ۔ المائدہ)

’’لہٰذا تم اﷲ کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرواورجو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑ کر اِن کی خواہشات کی پیرو ی نہ کرو ۔‘‘ (۴۸:۵ ۔ المائدہ)

یہ اور اس طرح کی دیگر آیات بغیر کسی شک کے یہ بات ثابت کر دیتی ہیں کہ حکومت اور تمام فیصلے صرف اور صرف اس چیز سے ہونے چاہیے جو کہ اﷲ نے نازل کر دی ہوئی ہیں۔ خصوصاََ پہلی آیت واضح طور پر مسلمانوں کو تنبیہہ کر رہی ہے کہ اُن کے اندر کوئی ایمان نہیں ہوگا جب تک وہ ہر چیز میں رسول اﷲ ﷺکو اپنے درمیان فیصلہ کرنے والا نہ بنا دیں۔ اور جب تک اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کے کسی بھی فیصلے پر دل میں کوئی کدورت نہ رکھیں۔ بلکہ پوری دلجمعی اور اخلاص کے ساتھ اس کو قبول کریں۔

رسول اﷲ ﷺ کی احادیث کی روشنی میں :

۱۔ امام مسلم ؒ ، ابو حازم سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے کہا:

میں ابو ہریرہ کے ساتھ ۵ سال تک رہا ۔ میں نے ان سے رسول اﷲﷺ کی یہ حدیث روایت سنی ’’بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی فوت ہو تا تو اس کی جگہ دوسرا آجاتا، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ بلکہ میرے بعد خلفاء ہونگے اور وہ کثرت سے ہونگے ‘‘۔ انہوں نے پوچھا آپ ہمیں کیا حکم کرتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ’’ایک کے بعد ایک کی بیعت کرو۔ انہیں اُن کا حق دو ۔ یقیناََ اﷲ اُن سے اُن کی مسؤلیت کے بارے میں پوچھے گا‘‘۔

یہ حدیث نہایت واضح طور پر ’’خلافت‘‘ کو مسلمانوں کا نظامِ حکومت وضح کرتی ہے نہ کہ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘، ’’اسلامی اشتراکیت‘‘ یا ’’اسلامی امارت‘‘ کو ۔ بہت ساری اور احادیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں۔ مثلاََ:

۲۔ امام مسلم ؒ عبداﷲ بن عمرؓ سے رسول اﷲ ﷺ کی یہ حدیث روایت کرتے ہیں:

’’اور جو کوئی مرا اس حال میں کہ اس کی گردن میں (خلیفہ کی ) بیعت نہ ہو، وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘

۳۔ احمد اور ابن ابی عاصم روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ؐ نے فرمایا:

’’اور جو کوئی مرا اس حال میں کہ اس کے اوپر ایک امام (خلیفہ ) نہ ہو ، وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘ (شرح صحیح مسلم : جلد ۱۲، صفحہ ۲۰۵)

امام غزالی ؒ خلافت کے نہ ہونے کے خطرناک نتائج کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’قاضی معطل ہو جائیں گے، ولایات (صوبے) ختم ہو جائیں گے ………..حاکم کے احکام نافذ نہیں ہوسکیں گے اور لوگ حرام کاموں کی دہلیز پر ہونگے‘‘ (الاقتصاد فی الاعتقاد : صفحہ ۲۴۰)

امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

’’یہ جاننا واجب ہے کہ لوگوں کے امور کی دیکھ بھال کے سب سے بڑے عہدے (یعنی خلیفہ کی نشست) دین کے سب سے بڑے فرائض میں سے ہے۔ درحقیقت اس کے بغیر کوئی اقامِ دین نہیں ………..یہ اہل سلف جیسے کہ فضیل بن فیاض ، احمدبن حنبل اور دوسروں کی رائے ہے۔ (سیاست شرعیہ، باب حاکم (حکومت) کے ساتھ ہونے کی فرضیت)

امام ابو الحسن الماوردی ؒ لکھتے ہیں:

امارت کا عقد ،خواہ جو کوئی بھی ہو، بلحاظ اجماع واجب ہے۔ (الاحکام سُلطانیہ، عربی، صفحہ ۵۶)

امام احمد ؒ لکھتے ہیں:

جب لوگوں کے امور کی دیکھ بھال کیلئے کوئی امام (خلیفہ ) نہ ہوتو فتنہ پھیل جاتا ہے۔

چھٹی صدی ہجری کے ایک مشہور عالم ابو ھفس امر السفی کہتے ہیں:

’’واضح طور پر مسلمانوں کا ہر صورت ایک امام (خلیفہ) ہونا چاہیے، جو احکام نافذ کرتا ہے، حدود مقرر کرتا ہے، سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے، فوج کو مسلح کرتا ہے، زکوٰۃ وصول کرتا ہے، جاسوسوں ،رہزنوں اور( ریاست کے) باغیوں کو سزا دیتا ہے، جمعہ اور عیدین کی دو نمازیں قائم کرتا ہے، اﷲ کے بندوں کے درمیان تنازعات حل کرتا ہے، قانونی حقوق میں گواہوں کی گواہی قبول کرتا ہے، جوان اور غریب لوگوں کی شادیاں کراتا ہے(جن کے کوئی خاندان نہیں)، اور مالِ غنیمت تقسیم کرتا ہے۔‘‘

امام الجزیری، جو کہ چار بڑے مکتبہ فکر (مسالک ) کے فقہ کے بڑے عالم سمجھے جاتے ہیں، چار اماموں کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’امام (چار مسالک حنفی، شافعی، حنبلی، مالکی کے علماء)، اﷲ ان پر رحمعتیں نازل کرے، ایک امارت کے ہونے کی فرضیت پر متفق ہیں کہ مسلمانوں کو ہر صورت ایک امام مقرر کرنا چاہیے جو دین کے احکام نافذ کرے اور مظلوموں کو ظالموں کے خلاف انصاف فراہم کرے۔‘‘

پس ر سول اﷲﷺکے احکام کے مطابق یہ لازمی ہے کہ مسلمان ایک امام(خلیفہ) کی موجودگی کو یقینی بنائیں جس کو بیعت دے کر مسلمان اپنی گردن میں خلیفہ کی اطاعت کی بیعت ڈال سکتے ہیں۔ اطاعت کی بیعت خلیفہ کے علاوہ اور کسی (حاکم) کو نہیں دی جاتی ۔ یہ احادیث ہمیں واضح کرتی ہیں کہ مسلمانوں کے امور کی ذمہ داری خلیفہ کے سر ہوتی ہے ، جس کو امیرالمؤمنین یا امام بھی کہا جاتا ہے۔ پس اس کو قائم کرنا ایک حکم ہے۔

صحابہ رضوان اﷲ اجمعین کی نظر میں:

حضرت علیؓ بن ابی طالب کے الفاظ میں: ’’لوگ کبھی بھی راہِ راست پر نہیں ہونگے ما سوائے ایک امام (خلیفہ ) کے ذریعے ، خواہ وہ اچھا ہو یا برا‘‘۔ (بیہقی: نمبر ۱۴۲۸۶، کنزالاعمال)

عبداﷲ بن عمرؓ نے فرمایا: ’’امت کے لوگ گناہ گار اور ظالم ہونے کے باوجود مصیبتوں کا شکار نہیں ہونگے اگر ان کے حکمران راہِ راست پر ہوں اور لوگوں کو راہِ راست پر لانے کی سعی کر رہے ہوں۔ لیکن یہ امت مصیبتوں کا شکار اور تباہ ہو جائے گی اگر وہ راہِ راست پر ہوں اور اس طرف لوگوں کو بلا رہے ہوں اگر ان کے حکمران ظالم اور گناہ گار ہوں۔‘‘ (بہ روایت ابو نعیم ، کتاب حُلایات اولیاء)

عمر ابن الخطاب فرماتے ہیں: ’’جماعت کے بغیر کوئی دین نہیں، امارت کے بغیر کوئی جماعت نہیں، اورسمع و طاعۃ کے بغیر کوئی امارت (اختیار ، حکومت)نہیں۔‘‘

علماء کے اقوال میں:

امام القرطبی اس آیت ’’در حقیقت ، انسان کو اس زمین پر خلیفہ بنایا گیا ہے‘‘ (القرآن، ۳۰:۲) کی تفسیر میں کہتے ہیں:

’’یہ آیت ایک امام ، ایک خلیفہ کو چننے کے بارے میں ایک دلیل ہے۔ اس کی بات سنی جاتی ہے اور اس کی اطاعت کی جاتی ہے(سمع و طاعۃ) کیونکہ اختلاف اس کے ذریعے رفع ہوتا ہے۔ اور اس کی فرضیت کے بارے میں امت میں کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی اماموں کے مابین ، سوائے کہ جو الآسام کے بارے میں روایت ہے جو متزلہ کا گروہ ہے (ایک منحرف گروہ)۔ (تفسیر القرطبی: ۱ ؍ ۲۶۴)

امام القرطبی کا ایک اور قول ہے: ’’خلافت وہ ستون ہے جس کے اوپر دیگر ستون کھڑے ہیں۔‘‘

امام النواری لکھتے ہیں: ’’(علماء) متفق ہیں کہ ایک خلیفہ کو منتخب کرنا واجب ہے۔‘‘ فقہ المذاہب اربعہ(چار مسالک کی فقہ ) جلد ۵، صفحہ ۴۱۶

امام الھیثمی کی رائے ہے:

’’یہ ایک معروف بات ہے کہ صحابہ نبوت کے بعد ایک امام کے چننے کو واجب سمجھنے پر متفق تھے۔ درحقیقت وہ اس کو دوسرے فرائض سے اولیت دے رہے تھے جب وہ رسول اﷲ ﷺ کی تدفین کی جگہ اس کام میں مصروف تھے۔‘‘ (الھیثمی ، ثوائق الحرقہ: ۱۷)

تمام مسلمان امت کی ایک خلیفہ ہونے کی دلیل

رسول اﷲ ﷺ کی احادیث کے مطابق:

۱۔ پیغمبر خدا نے فرمایا ’’ اگر دو خلفاء کے ہاتھ پر بیعت ہوجائے تودوسرے کو قتل کردو۔ (بہ روایت سعیدالخدای۔صحیح مسلم)

۲ ۔ محمدؐ نے یہ بھی فرمایا ،’’اگر تمہارے امور ایک شخص کے پیچھے متفق ہوں اور کوئی دوسرا آکر تمہاری طاقت توڑنے اور اتحاد توڑنے کے لئے آئے تو اسے قتل کردو ۔‘‘ (بہ روایت ارفجہ ، صحیح مسلم)

پس آخر اُن لوگوں کے پاس شریعت سے کیا دلیل ہے جو مُصر ہیں کہ مسلمانوں کو علاقائی اسلامی امارات برقرار رکھنی چاہیے جو کہ برطانوی اور دوسری استعماری قوتوں نے قومیت کی بنیاد پر مسلمانوں کو تقسیم کرنے کیلئے بنائی ۔ کیا ہم کفار کے ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی کو نہیں دیکھ رہے۔ اور اُن مسلمانوں کے بارے میں کیا کہا جائے جو صرف ’اپنے ‘ ملک میں اسلامی حکومتیں قائم کرنا چاہتے ہیں جو بعد میں آپس میں ’نارمل ‘ تعلقات رکھیں گی، جیسے کہ باقی دیگر ’اسلامی ‘ممالک بالکل شرعی ہیں۔

مسلمانوں کا ایک سے زیادہ خلیفہ ہونا حرام ، گناہ، فتنہ اور اُن کی طاقت توڑنے کے برابر ہے۔

اجماع الصحابہ کے مطابق:

ابنِ کثیر کی ’’السیرۃ‘‘، الطبری کی ’’طریقہ طبری‘‘، ابنِ ہشّام کی ’’سیرت ابنِ ہشّام‘‘، بیہقی کی ’’السنن الکبرۃ‘‘، ابو حازم کی ’’فصل مل ملال‘‘ اور الواقدی کی ’’العقد الفرید‘‘ کی کتابوں میں یہ واقعہ درج ہے کہ:

جب صحابہؓ رسول اﷲ ﷺ کے انتقال کے بعد بنی ثقیفہ بن سعدہ میں ملے تو حباب بن منظرؓ نے کہا: ’’کیوں نہ ایک امیر آپ میں سے ہو اور ایک ہم میں سے۔‘‘(یعنی انصار اور مہاجرین میں سے)۔ اس پر ابو بکر صدیقؓ نے جواب دیا ’’مسلمانوں کے لئے دو امیروں کا ہونا جائز نہیں……..‘‘ پھر وہ اٹھے اور مسلمانوں سے خطاب کیا۔

سیرت ابنِ اسحاق میں مزید درج ہے کہ ابو بکر صدیق ؓ نے مزید کہا:

’’یہ مسلمانوں کے لئے جائز نہیں کہ اُن کا ایک سے زیادہ امیر ہوکیونکہ یہ ان کے امور اور نظریات میں اختلاف کا سبب بنے گا، ان کا اتحاد ختم ہو جائے گا اور تنازعات پھوٹ پڑیں گے، سنت متروک ہو جائے گی ، بدعت پھیل جائے گی، فتنہ بڑھ جائے گا اور یہ کسی کے مفاد میں نہیں۔‘‘

صحابہ رضوان اﷲ اجمعین اس بات پر متفق ہوگئے اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ کو خلیفہ منتخب کیا ۔ حباب ابنِ مُنظرؓ جنہوں نے دو امیروں کا خیال پیش کیا تھا ، نے اپنی تصحیح کی اور وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے ابو بکر صدیق ؓ کو بیعت دی۔ یہ چیز اجماع الصحابہ کو طاہر کرتی ہے جو ہمارے شرعی نصوص میں سے ہے۔ حضرت علیؓ بن ابی طالب ، جو رسول اﷲﷺ کے جسد مبارک کے ساتھ تھے ، نے بھی اپنی رضامندی ظاہر کی۔

مشہور فقہاء کے نزدیک:

۱۔ امام الشوکانی اپنی کتاب ’’تفسیر القرآن الحکیم‘‘ جلد دوم صفحہ ۲۱۵ پر لکھتے ہیں:

’’یہ اسلام سے بہ ضرورت ثابت ہے کہ اسلام نے مسلمانوں اور اُن کے درمیان زمین تقسیم کرنے کو منع کیا ہے‘‘۔

۲۔ انتہائی مشہور فقیہہ امام الحسن الماوردی اپنی کتاب ’’الاحکام السلطانیۃ‘‘ صفحہ ۹ پر لکھتے ہیں:

’’امت کے لئے ایک وقت میں دو امام کے ہونے کی ممانعت ہے‘‘۔

۳۔ امام النواوی اپنی کتاب ’المغنی المحتاج‘ جلد ۴ صفحہ ۳۲ پر لکھتے ہیں:

’’امت کے لئے دو اماموں کو، خواہ وہ دنیا کے دو مختلف حصوں میں ہوں یا خواہ میں کتنے ہی دور ہوں ، کی بیعت جائز نہیں‘‘۔

وہ اپنی کتاب ’شرح صحیح مسلم ‘ باب ۱۲ صفحہ ۲۳۱ میں مزید لکھتے ہیں:

’’اگر دو خلفاء کے ہاتھ پر ایک کے بعد دوسرے کی بیعت ہو جائے تو پہلے کی بیعت درست ہو گی۔ وہبیعت پوری کی جائے گی اور اس کی تعمیل ہو گی جبکہ دوسرے کی بیعت بے اثر ہو گی اور اس کو پورا کرنا جائز نہیں۔ یہ صحیح رائے ہے ، یہ علماء کی اکثریت کی رائے ہے اور علماء متفق ہیں کہ ایک وقت میں دو خلفاء مقرر کرنا جائز نہیں خواہ اسلامی زمین کتنی ہی بڑی اور وسیع کیوں نہ ہو جائے‘‘۔

۴۔ امام ابنِ حازم اپنی کتاب ’المجلّہ ‘ جلد ۴ صفحہ ۳۶۰ میں لکھتے ہیں:

’’یہ حرام ہے کہ ایک وقت میں پوری دنیا میں ایک سے زیادہ امام (خلیفہ) ہو۔‘‘

۵۔ امام الجزیری جو کہ چار بڑے مکتبہ فکر (مسالک ) کے بہت بڑے عالم ہیں ، چار اماموں کی رائے کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’……..یہ جائز نہیں کہ دنیا میں مسلمانوں کے ایک سے زیادہ امام ہوں، خواہ وہ آپس میں متفق ہوں یا اختلاف رکھتے ہوں۔‘‘ (فقہ المذاہب الاربعۃ: جلد ۵ صفحہ ۴۱۶)

نتیجہ:

خلاصہ یہ کہ ہم آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ یہ خلافت کا نظام ہے جو کہ درحقیقت اسلام کو مکمل طور پر اپنے تمام مظاہر میں نافذ کرتا ہے۔ پس اسلام اور مسلمان اس پر منحصر ہیں ۔ یہ صرف ایک فرض نہیں بلکہ ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے ذریعے پورا اسلام نافذ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبوی کیلنڈر پہلی ہجری سے شروع ہوتا ہے۔ یہ ہجرت جس چیزکو نمایاں کرتی ہے وہ مکے میں مشرک کو پیچھے چھوڑنا اور مدینے میں اسلام کا نظام کا قائم ہونا ہے۔ پس پہلی ہجری اسلامی حکومت کے پہلے دن سے شروع ہوتی ہے نہ کہ پہلی وحی سے، نہ ہی رسول اﷲ ﷺ کی ولادت سے، جس طرح عیسائیوں کا ہے۔ پس جو کوئی بھی اس معاملے میں غفلت برتتا ہے ، وہ اسلام کے سب سے بڑے فرض کو نظر انداز کرتا ہے یعنی پورے دین کو قائم کرنا(نعوذ باﷲ)۔ رسول اﷲ ﷺ کی حدیث ’’اور جو کوئی مرا اس حال میں کہ اس کی گردن میں (خلیفہ کی ) بیعت نہ ہو، وہ جاہلیت کی موت مرا‘‘ ، اس بات کی دلیل ہے کہ خلافت کیلئے اُن لوگوں کے ساتھ کام کرنا فرض ہے جو رسول اﷲﷺ کے طریقے پر چلتے ہوئے خلافت کو قائم کرنے کی سعی کر رہے ہوں ۔ اور یہ اس وقت مسلمانوں پر دوسری تمام فرائض سے بڑا فرض ہے کیونکہ اس کے بغیر اقامِ دین ممکن نہیں۔ اور کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ ناممکن ہے کیونکہ اس کا وعدہ اور بشارت اﷲتعالیٰ نے قرآن میں دے دی ہے جو آیت استخلاف کے نام سے جانی جاتی ہے:

’’تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور جنھوں نے نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالی وعدہ فرما چکا ہے کہ انھیں ضرور ملک کا خلیفہ بنائے گا۔ جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے۔ اور یقیناً ان کیلئے اُن کے اِس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کر کے جما دے گاجسے اُن کیلئے وہ پسند فرما چکا ہے۔ اورُ ان کے لئے اس خوف و خطر کو وہ امن و امان سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گی ، میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے۔‘‘ (۵۵:۲۴ ۔ النور)

امام احمد بن حنبل ؒ حذیفہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:

’’نبوت تمہارے درمیان رہے گی جب تک اﷲ چاہے اور یہ پھر وہ اس کو اٹھا لے گا جب وہ چاہے۔ پھر خلافت راشدہ آئے گی (یعنی پہلے چار خلفاء) نبوت کے طریقے پر ، یہ تم میں باقی رہے گی جب تک اﷲ چاہے اوراُسے اٹھالے گا جب اﷲ چاہے۔ پھر تم میں موروثی قیادت (عباسی اور امیہ وغیرہ) کا دور آئے گا اورجب تک اﷲ چاہے باقی رہے گا۔ پھر اﷲاسے اٹھالے گاجب وہ چاہے۔ پھر تم پر ظلم کا دور ہوگا (موجودہ کفر نافذ کرنے والی تمام مسلم حکومتیں) اور یہ باقی رہے گا جب تک اﷲ چاہے ، پھر وہ اسے اٹھالے گا جب وہ چاہے۔ پھر اس کے بعد دوبارہ تم میں نبی ؐ کے طریقے کار پر خلافت راشدہ کا دور آئے گا، پھر وہ خاموش ہو گئے۔‘‘ (مسند امام احمد، ۲۷۳:۴)

اور مسجد اقصیٰ کی یہودیوں سے آزادی کے بارے میں رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

’’دو ہجرتیں ہونگی اور دوسری وہاں ہوگی جہاں تمہارے والد (جدّ امجد) ابراہیمٌ نے کی(یعنی فلسطین)۔‘‘

نوٹ: ہجرت مسلمانوں کا دارالکفر سے دارالاسلام کی طرف جانے کوکہتے ہیں۔

پس کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اتمام الخلافہ ایک ناممکن کام ہے کیونکہ کامیابی کی بشارت اﷲ اور اس کے رسولؐ نے دی ہے ۔ جو کرنے کا کام ہے وہ یہ ہے کہ تمام مسلمان اس کام کو کرنے کیلئے دل وجان کے ساتھ آگے بڑھیں اور اس عظیم کام کی دعوت کو تمام امت تک لے جائیں اور اُن کے دین کودوبارہ ان کے ذہنوں میں تازہ کریں۔

امام احمد اپنی مسند میں (۳۵:۵) میں رسول ﷺ کی حدیث لکھتے ہیں :

’’اگر الشام کے لوگ (فلسطین، لبنان ، اردن، شام) گمراہی میں چلے جائیں تو میری امت میں کوئی خیر باقی نہیں رہے گا تاہم یہاں سے ایک جماعت جس کو میری امت کی حمایت حاصل ہوگی باقی رہے گی، اور وہ روزِ جزا تک ملامت گروں کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔‘‘

اﷲ سے دعا ہے کہ اﷲ ہمیں اس جماعت کا حصہ بنائے اور اس زمین میں دین کو قائم کرنے میں ہماری مدد کرے۔ آمین۔

حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن تیم بن مرہ بن کعب ہے۔ مرہ بن کعب تک آپ کے سلسلہ نسب میں کل چھ واسطے ہیں۔ مرہ بن کعب پر جاکر آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب سے جاملتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر ہے۔

(المعجم الکبير، نسبة ابی بکر الصديق واسمه، 1:1)

آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر ہونے کی درج ذیل وجوہات بیان کی جاتی ہیں:

عربی زبان میں ’’البکر‘‘ جوان اونٹ کو کہتے ہیں۔ جس کے پاس اونٹوں کی کثرت ہوتی یا جو اونٹوں کی دیکھ بھال اور دیگر معاملات میں بہت ماہر ہوتا عرب لوگ اسے ’’ابوبکر‘‘ کہتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا قبیلہ بھی بہت بڑا اور مالدار تھا نیز اونٹوں کے تمام معاملات میں بھی آپ مہارت رکھتے تھے اس لئے آپ بھی ’’ابوبکر‘‘ کے نام سے مشہور ہوگئے۔عربی زبان میں ابو کا معنی ہے ’’والا‘‘ اور ’’بکر‘‘ کے معنی ’’اولیت‘‘ کے ہیں۔ پس ابوبکر کے معنی ’’اولیت والا‘‘ ہے۔ چونکہ آپ رضی اللہ عنہ اسلام لانے، مال خرچ کرنے، جان لٹانے، الغرض امتِ محمدیہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہر معاملے میں اولیت رکھتے ہیں اس لئے آپ رضی اللہ عنہ کو ابوبکر (یعنی اولیت والا) کہا گیا۔

(مراة المناجيح، مفتی احمد يار خان نعيمی، 8: 347)

سیرت حلبیہ میں ہے کہ کُنِيَ بِاَبِی بَکْرٍ لِاِبْتِکَارِهِ الْخِصَالِ الْحَمِيْدَةِ’’آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر اس لئے ہے کہ آپ شروع ہی سے خصائل حمیدہ رکھتے تھے‘‘۔

آپ رضی اللہ عنہ کے دو لقب زیادہ مشہور ہیں:

عتیقصدیقعتیق پہلا لقب ہے، اسلام میں سب سے پہلے آپ کو اسی لقب سے ہی ملقب کیا گیا۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام ’’عبداللہ‘‘ تھا، نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: اَنْتَ عَتِيْقٌ مِنَ النَّار ’’تم جہنم سے آزاد ہو‘‘۔ تب سے آپ رضی اللہ عنہ کا نام عتیق ہوگیا۔

(صحيح ابن حبان، کتاب اخباره عن مناقب الصحابة، ج9، ص6)

حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک دن اپنے گھر میں تھی، رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان صحن میں تشریف فرما تھے۔ اچانک میرے والد گرامی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے تو حضور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ کر اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا:

مَنْ اَرَادَ اَنْ يَنْظُرَ الی عَتيقٍ مِنَ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ اِلیٰ اَبی بَکْر.

’’جو دوزخ سے آزاد شخص کو دیکھنا چاہے، وہ ابوبکر کو دیکھ لے‘‘۔

(المعجم الاوسط، من اسمه الهيثم، الرقم: 9384)

آپ رضی اللہ عنہ کے لقب ’’صدیق‘‘ کے حوالے سے حضرت سیدہ حبشیہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

يَا اَبَابَکْرٍ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ سَمَّاکَ الصِّدِّيْق

’’اے ابوبکر! بے شک اللہ رب العزت نے تمہارا نام ’’صدیق‘‘ رکھا‘‘۔

(الاصابة فی تمييز الصحابة، حرف النون، 8: 332)

ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی سیر کرائی گئی تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری صبح لوگوں کے سامنے اس مکمل واقعہ کو بیان فرمایا، مشرکین دوڑتے ہوئے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے:

هَلْ لَکَ اِلٰی صَاحِبِکَ يَزْعُمُ اَسْرٰی بِهِ اللَّيْلَةَ اِلَی بَيْتِ الْمَقْدَس؟

’’کیا آپ اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں جو آپ کے دوست نے کہی ہے کہ انہوں نے راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی سیر کی؟‘‘

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی یہ بیان فرمایا ہے؟

انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

لَئِنْ کَانَ قَالَ ذٰلِکَ لَقَدْ صَدَق.

’’اگر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے تو یقینا سچ فرمایا ہے اور میں ان کی اس بات کی بلا جھجک تصدیق کرتا ہوں‘‘۔

انہوں نے کہا: ’’کیا آپ اس حیران کن بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ آج رات بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے؟‘‘

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

نَعَمْ! اِنِّیْ لَاُصَدِّقُهُ فِيْمَا هُوَ اَبْعَدُ مِنْ ذٰلِکَ اُصَدِّقُهُ بِخَبْرِ السَّمَاءِ فِیْ غَدْوَةٍ اَوْ رَوْحَة.

’’جی ہاں! میں تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آسمانی خبروں کی بھی صبح و شام تصدیق کرتا ہوں اور یقینا وہ تو اس بات سے بھی زیادہ حیران کن اور تعجب والی بات ہے‘‘۔

(المستدرک علی الصحيحين، الرقم: 4515)

پس اس واقعہ کے بعد آپ رضی اللہ عنہ صدیق مشہور ہوگئے۔

قبول اسلام

حضرت سیدنا ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اسلام آسمانی وحی کی مانند تھا، وہ اس طرح کہ آپ ملک شام تجارت کے لئے گئے ہوئے تھے، وہاں آپ نے ایک خواب دیکھا، جو ’’بحیرا‘‘ نامی راہب کو سنایا۔ اس نے آپ سے پوچھا:

’’تم کہاں سے آئے ہو؟‘‘ فرمایا: ’’مکہ سے‘‘۔ اس نے پھر پوچھا: ’’کون سے قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟‘‘ فرمایا: ’’قریش سے‘‘۔ پوچھا: ’’کیا کرتے ہو؟‘‘ فرمایا: تاجر ہوں۔ وہ راہب کہنے لگا: اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے خواب کو سچافرمادیا تو وہ تمہاری قوم میں ہی ایک نبی مبعوث فرمائے گا، اس کی حیات میں تم اس کے وزیر ہوگے اور وصال کے بعد اس کے جانشین۔

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کو پوشیدہ رکھا، کسی کو نہ بتایا اور جب سرکار صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کا اعلان فرمایا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی واقعہ بطور دلیل آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا۔ یہ سنتے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گلے لگالیا اور پیشانی چومتے ہوئے کہا: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں‘‘۔

(الرياض النضرة، ابوجعفر طبری، 1: 83)

والدین کریمین

آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم کا نام عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر قرشی تیمی ہے۔ کنیت ابوقحافہ ہے۔ آپ فتح مکہ کے روز اسلام لائے اور آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد بھی زندہ رہے اور ان کے وارث ہوئے۔ آپ  نے خلافت فاروقی میں وفات پائی۔

(تهذيب الاسماء واللغات، امام نووی، 1: 296)

آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا نام سلمی بنت صخر بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ہے۔ کنیت ’’ام الخیر‘‘ ہے۔ آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد کے چچا کی بیٹی ہیں۔ ابتدائے اسلام میں ہی آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرکے مشرف بہ اسلام ہوگئیں تھیں۔ مدینہ منورہ میں جمادی الثانی 13ہجری میں وفات پائی۔

(الاصابة فی تمييز الصحابة، 8: 386)

ازواج اور اولاد

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ازواج (بیویوں) کی تعداد چار ہے۔ آپ نے دو نکاح مکہ مکرمہ میں کئے اور دو مدینہ منورہ میں۔ان ازواج سے آپ کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہوئیں۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا پہلا نکاح قریش کے مشہور شخص عبدالعزی کی بیٹی ام قتیلہ سے ہوا۔ اس سے آپ رضی اللہ عنہ کے ایک بڑے بیٹے حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ایک بیٹی حضرت سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئیں۔آپ رضی اللہ عنہ کا دوسرا نکاح ام رومان (زینب) بنت عامر بن عویمر سے ہوا۔ ان سے ایک بیٹے حضرت سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اور ایک بیٹی ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئیں۔سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تیسرا نکاح حبیبہ بنت خارجہ بن زید سے کیا۔ ان سے آپ رضی اللہ عنہ کی سب سے چھوٹی بیٹی حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے چوتھا نکاح سیدہ اسماء بنت عمیس سے کیا۔ یہ حضرت سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں، جنگ موتہ کے دوران شام میں حضرت سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کرلیا۔ حجۃ الوداع کے موقع پر ان سے آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد بن ابی بکر پیدا ہوئے۔ جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دنیا سے پردہ فرمایا تو حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ سے نکاح کرلیا۔ اس طرح آپ کے بیٹے محمد بن ابی بکر کی پرورش حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمائی۔

(الرياض النضرة، امام ابو جعفر طبری، 1: 266)

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھرانے کو ایک ایسا شرف حاصل ہے جو اس گھرانے کے علاوہ کسی اور مسلمان گھرانے کو حاصل نہیں ہوا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خود بھی صحابی، ان کے والد حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ بھی صحابی، آپ کے تینوں بیٹے (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اور حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ) بھی صحابی، آپ رضی اللہ عنہ کے پوتے بھی صحابی، آپکی بیٹیاں (حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ، حضرت سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہ بنت ابی بکر) بھی صحابیات اور آپ کے نواسے بھی صحابی ہوئے۔

حضرت سیدنا موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم صرف چار ایسے افراد کو جانتے ہیں جو خود بھی مشرف بہ اسلام ہوئے اور شرف صحابیت پایا اور ان کے بیٹوں نے بھی اسلام قبول کرکے شرف صحابیت حاصل کیا۔ ان چاروں کے نام یہ ہیں:

ابوقحافہ عثمان بن عمر رضی اللہ عنہابوبکر عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہعبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہمحمد بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ

(المعجم الکبير، نسبة ابی بکر الصديق واسمه، الرقم: 11)

اہل بیت سے رشتہ داری

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ سے لے کر اپنی وفات تک کبھی بھی اہل بیت کی خدمت میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی اہل بیت سے یہ خصوصی محبت آپ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں بھی منتقل ہوتی رہی اور آپ رضی اللہ عنہ نے اہل بیت سے ایک مضبوط رشتہ داری قائم فرمائی۔ جس کی تفصیل یہ ہے:

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی لاڈلی شہزادی حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کا نکاح 8 بعثت نبوی، شوال المکرم میں اپنے محبوب آق صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا۔آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ حضرت سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ یہ دونوں والدہ کی طرف سے بہنیں تھیں۔ ان کی والدہ محترمہ کا نام ’’ہند بنت عوف‘‘ ہے اور انہیں ’’خولہ بنت عوف‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یوں اس مبارک رشتے سے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہم زلف ہوئے۔

(الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، 8: 104)

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے (یعنی حضرت اسماء بنت ابی بکر کے بیٹے) حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھتیجے بھی ہیں، کیونکہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی اور حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی دادی (یعنی حضرت سیدنا زبیر بن عوام کی والدہ) حضرت سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہ ہیں۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر، حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے داماد بھی ہیں۔ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی بیٹی حضرت سیدہ ام الحسن رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں جن کی والدہ حضرت سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد ان سے امیرالمومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے نکاح فرمایا۔ چنانچہ اس لحاظ سے حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے سوتیلے بیٹے ہوئے اور حضرت سیدنا امام حسن و حسین رضی اللہ عنہ آپ کے علاتی بھائی (یعنی باپ شریک بھائی) ہوئے۔حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترم حضرت سیدہ شہر بانو رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زوجہ دونوں آپس میں سگی بہنیں تھیں۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت سیدنا حریث بن جابر جعفی رضی اللہ عنہ نے شاہ ایران یزد جرد بن شہر یار کی دو بیٹیاں آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان میں سے بڑی بیٹی حضرت سیدہ شہر بانو رضی اللہ عنہ کانکاح اپنے بیٹے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے فرمادیا اور چھوٹی بیٹی کانکاح حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمادیا۔

(لباب الانساب والالقاب والاعقاب، ظهيرالدين ابوالحسن علی بن زيدالبيهقی (565ه)، 1:22)

حضرت سیدنا امام جعفر صادق کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی حضرت سیدہ ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہے۔ جبکہ آپ کے والد گرامی کا اسم مبارک حضرت سیدنا امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہے۔ یوں آپ رضی اللہ عنہ والدہ کی طرف سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور والد کی طرف سے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جاملتے ہیں۔ (شرح العقائد:328)حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پوتی حضرت سیدہ حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں۔ یوں حضرت سیدنا  حسین رضی اللہ عنہ اس حوالے سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے داماد محترم ہوئے۔

(الطبقات الکبری لابن سعد، 8: 342)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ سعادت حاصل ہے کہ وہ اپنے گرد پھیلی ہوئی گمراہیوں، غلط رسوم و رواج، اخلاقی و معاشرتی برائیوں سے پاک صاف ہونے کے ساتھ ساتھ اوصاف حمیدہ سے بھی متصف تھے۔ آپ کے اعلیٰ محاسن و کمالات اور خوبیوں کی بنا پر مکہ مکرمہ اور اس کے قرب و جوار میں آپ رضی اللہ عنہ کو محبت و عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ حضرت سیدنا سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اچھی خصلتیں تین سوساٹھ ہیں اور اللہ جب کسی سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی ذات میں ایک خصلت پیدا فرمادیتا ہے اور اسی کے سبب اسے جنت میں بھی داخل فرمادیتا ہے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا میرے اندر بھی ان میں سے کوئی خصلت موجود ہے؟ ارشاد فرمایا: اے ابوبکر! تمہارے اندر تو یہ ساری خصلتیں موجود ہیں۔

عاجزی و انکساری

حضرت سیدہ انیسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بننے کے تین سال پہلے اور خلیفہ بننے کے ایک سال بعد بھی ہمارے پڑوس میں رہے۔ محلے کی بچیاں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی بکریاں لے کر آتیں، آپ ان کی دلجوئی کے لئے دودھ دوھ دیا کرتے تھے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا تو محلے کی ایک بچی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی: اب تو آپ خلیفہ بن گئے ہیں، آپ ہمیں دودھ دوھ کر نہیں دیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کیوں نہیں! اب بھی میں تمہیں دودھ دوھ کر دیا کروں گا اور مجھے اللہ کے کرم سے یقین ہے کہ تمہارے ساتھ میرے رویے میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ چنانچہ خلیفہ بننے کے بعد بھی آپ رضی اللہ عنہ ان بچیوں کو دودھ دوھ کردیا کرتے تھے۔

(تهذيب الاسماء واللغات، امام نووی، 2: 480)

حضرت سیدنا یحییٰ بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ملک شام کی طرف چند لشکر بھیجے۔ ان میں حضرت سیدنا یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا لشکر بھی تھا۔ انہیں ملک شام کے چوتھائی حصے کا امیر مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی روانگی کے وقت حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انہیں چھوڑنے کے لئے ان کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے اور یہ گھوڑے پر سوار تھے۔ حضرت سیدنا یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:

’’اے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ! یا تو آپ رضی اللہ عنہ سوار ہوجائیں یا میں اپنے گھوڑے سے اتر جاتا ہوں‘‘۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:

مَااَنْتَ بِنَازِلٍ وَلَا اَنَا بِرَاکِبٍ اِنِّی اَحْتَسِبُ خُطَيَ هَذِهِ فِی سَبِيلِ اللّٰهِ.

’’نہ تو تم اپنے گھوڑے سے اترو گے اور نہ ہی میں سوار ہوں گا بلکہ میں تو اپنے ان قدموں کو راہ خدا میں شمار کرتا ہوں۔‘‘

(موطا امام مالک، کتاب الجهاد، الرقم: 1004)

حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ رات کے وقت مدینہ منورہ کے کسی محلے میں رہنے والی ایک نابینا بوڑھی عورت کے گھریلو کام کاج کردیا کرتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ اس کے لئے پانی بھر لاتے اور اس کے تمام کام سرانجام دیتے۔ حسب معمول ایک مرتبہ بڑھیا کے گھر آئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ سارے کام ان سے پہلے ہی کوئی کرگیا تھا۔ بہر حال دوسرے دن تھوڑا جلدی آئے تو بھی وہی صورت حال تھی کہ سب کام پہلے ہی ہوچکے تھے۔ جب دو تین دن ایسا ہوا تو آپ کو بہت تشویش ہوئی کہ ایسا کون ہے جو مجھ سے نیکیوں میں سبقت لے جاتا ہے؟ ایک روز آپ دن میں ہی آکر کہیں چھپ گئے، جب رات ہوئی تو دیکھا کہ خلیفہ وقت امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اس نابینا بڑھیا کے سارے کام کردیئے۔ آپ رضی اللہ عنہ بڑے حیران ہوئے کہ خلیفہ وقت ہونے کے باوجود آپ اس بوڑھی خاتون کے تمام امور خوش دلی سے انجام دے رہے ہیں۔ ارشاد فرمایا: حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھ سے نیکیوں میں سبقت لے جاتے ہیں۔

(کنزالعمال، کتاب الفضائل، الرقم: 35602)

اہل بیت پر شفقت

حضرت سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز عصر پڑھ کر باہر نکلے اور حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جو اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نہایت ہی شفقت سے انہیں اٹھاکر اپنی گردن پر بٹھالیا اور فرمایا: مجھے میرے والد کی قسم! تو میرے محبوب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہ ہے، اپنے والد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مشابہ نہیں۔ یہ سن کر حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مسکرانے لگ گئے۔

(صحيح البخاری، کتاب المناقب، الرقم: 3542)

حضرت سیدنا عبدالرحمن اصبہائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا حسن بن علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جب چھوٹے سے تھے تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ اس وقت آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر پر رونق افروز تھے۔ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے چونکہ ہمیشہ منبر پر اپنے نانا جان صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو بیٹھے دیکھا تھا اس لئے ایک نئے شخص کو دیکھ کر اپنی ننھی سوچ کے مطابق کہنے لگے: آپ میرے بابا جان کی جگہ سے نیچے اترو۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ گوارا نہ فرمایا کہ شہزادہ اہل بیت کی دل شکنی ہو، لہذا آپ رضی اللہ عنہ فوراً نیچے تشریف لے آئے اور فرمایا: اے حسن رضی اللہ عنہ! تو نے سچ کہا یہ تیرے بابا جان ہی کی جگہ ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو فرط محبت سے اٹھاکر اپنی گود میں بٹھالیا۔ اس موقع پر انہیں آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیتے ہوئے وہ انمول ایام یاد آگئے، ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور آپ رضی اللہ عنہ زاروقطار رو پڑے۔

(کنزالعمال، کتاب الخلافة مع الامارة، الرقم: 14081)

غیرتِ ایمانی

عام حالات میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نہایت ہی نرم مزاج تھے ایسے معلوم ہوتا تھا کہ سختی، خفگی اور غصے سے تو آشنا ہی نہیں ہیں۔ دھیمے انداز میں آہستہ آہستہ بات کرتے مگر اسلام کے معاملے میں انتہائی غیرت مند اور بہت سخت تھے۔ مدینہ منورہ کے یہودیوں اور منافقوں کی طنزیہ باتوں پر تو آپ رضی اللہ عنہ شدید غصے میں آتے ہی تھے مگر اگر کبھی اپنے قریبی رشتہ داروں کی طرف سے بھی انہیں آق صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بے ادبی کا ہلکا سا بھی شائبہ ہوتا تو اس پر سخت ردعمل کا اظہار فرماتے۔

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابوقحافہ نے (قبول اسلام سے پہلے) ایک بار آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات کہہ دیئے تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اتنے زور سے دھکا دیا کہ وہ دور جاگرے۔ بعد میں آپ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا ماجرا سنایا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے ابوبکر! کیا واقعی تم نے ایسا کیا؟ عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: آئندہ ایسا نہ کرنا۔ عرض کیا: یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! اگر اس وقت میرے پاس تلوار ہوتی تو میں ان کا سرقلم کردیتا۔ اس وقت سورۃ المجادلہ کی آیت نمبر22 آپ کے حق میں نازل ہوئی:

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّوْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اﷲَ وَرَسُوْلَهُ وَلَوْکَانُوْا اٰبَآءَ هُمْ اَوْ اَبْنآءَ هُمْ اَوْاِخْوانَهُمْ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ ط اُولٰئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ وَيَدَ هُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ ط وَيُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاط رَضِيَ اﷲُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ط اُولٰئِکَ حِزْبُ اﷲِط اَ لَآ اِنَّ حِزْبَ اﷲِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ.

’’آپ اُن لوگوں کو جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کبھی اس شخص سے دوستی کرتے ہوئے نہ پائیں گے جو اللہ اور اُس کے رسول ( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دشمنی رکھتا ہے خواہ وہ اُن کے باپ (اور دادا) ہوں یا بیٹے (اور پوتے) ہوں یا اُن کے بھائی ہوں یا اُن کے قریبی رشتہ دار ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اُس (اللہ) نے ایمان ثبت فرما دیا ہے اور انہیں اپنی روح (یعنی فیضِ خاص) سے تقویت بخشی ہے، اور انہیں (ایسی) جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ اُن سے راضی ہوگیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں، یہی اﷲ (والوں) کی جماعت ہے، یاد رکھو! بے شک اﷲ (والوں) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے۔‘‘

(تفسير روح المعانی، تفسير سورة المجادله)

غزوہ بدر میں آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے سے پہلے مشرکین کے ساتھ اسلام کے خلاف جنگیں لڑتے تھے۔ جب وہ اسلام لے آئے تو ایک روز حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: ابا جان! میدان بدر میں ایک موقع پر آپ میری تلوار کی زد میں آئے لیکن میں نے آپ کو باپ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ یہ سن کر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غیرت ایمانی سے بھرپور جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

لٰکِنَّکَ لَو اَهْدَفْتَ لِیْ لَمْ اَنْصَرِفْ عَنْکَ.

’’لیکن اگر تو میرا ہدف بنتا تو میں تجھ سے اعراض نہ کرتا‘‘۔

یعنی اے بیٹے! اس دن تم نے تو مجھے اس لئے چھوڑ دیا کہ میں تمہارا باپ ہوں لیکن اگر تم میری تلوار کی زد میں آجاتے تو میں کبھی نہ دیکھتا کہ تم میرے بیٹے ہو بلکہ اس وقت تمہیں دشمن رسول سمجھ کر تمہاری گردن اڑادیتا۔

(نوادرالاصول، امام ترمذی، الرقم:710، 1:496)

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہر معاملہ آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کی خاطر ہوتا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ اس معاملے میں اپنے والدین اور اولاد وغیرہ کا بھی لحاظ نہ فرماتے تھے۔ ایک دفعہ آپ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی بیٹی حضر ت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی بلند آواز سنائی دی۔ آپ رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کو تھپڑ مارنے کے لئے ہاتھ اٹھاکر آگے بڑھے:

اَلاَ اَرَاکِ تَرْفَعِيْنَ صَوْتَکِ عَلَی رَسُولِ اللّٰهِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم.

’’یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں کہ تم رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کررہی ہو‘‘۔

یہ حالت دیکھ کر رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو تھپڑ مارنے سے روکا۔ آپ رضی اللہ عنہ اسی طرح غصے کی حالت میں واپس تشریف لے گئے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فوراً سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

کَيْفَ رَاَيْتِنِی اَنْقَذْتُکِ مِنَ الرَّجُلِ.

’’دیکھا! میں نے تمہیں ان سے کس طرح بچایا‘‘۔

چند دنوں کے بعد سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کاشانہ نبوی میں حاضر ہوئے تو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلماور حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کو باہم راضی اور خوش دیکھا تو بارگاہ رسالت میں یوں عرض گزار ہوئے:

اَدْخِلَانِی فِی سِلْمِکُمَا کَمَا اَدْخَلْتُمَانِی فِی حَرْبِکُمَا.

’’یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! جس طرح آپ نے مجھے اپنی ناراضگی میں شریک کیا تھا، اسی طرح مجھے اپنی صلح (خوشی) میں بھی شریک فرمالیجئے۔‘‘

آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

قَدْ فَعَلْنَا قَدْ فَعَلْنَا

’’ہم نے آپ کو شریک کرلیا، شریک کرلیا‘‘

(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب ماجاء فی المزاح، الرقم: 4999)

بطورِ امیرالمومنین ذریعہ معاش

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیعت خلافت کے دوسرے روز کچھ چادریں لے کر بازار جارہے تھے، حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟ فرمایا: بغرض تجارت بازار جارہا ہوں۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اب آپ رضی اللہ عنہ یہ کام چھوڑ دیجئے، اب آپ لوگوں کے خلیفہ (امیر) ہوگئے ہیں۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں یہ کام چھوڑ دوں تو پھر میرے اہل و عیال کہاں سے کھائیں گے؟ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ رضی اللہ عنہ واپس چلئے، اب آپ رضی اللہ عنہ کے یہ اخراجات حضرت سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ طے کریں گے۔ پھر یہ دونوں حضرات حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور ان سے حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل و عیال کے واسطے ایک اوسط درجے کے مہاجر کی خوراک کا اندازہ کرکے روزانہ کی خوراک اور موسم گرما و سرما کا لباس مقرر کیجئے لیکن اس طرح کہ جب پھٹ جائے تو واپس لے کر اس کے عوض نیا دے دیا جائے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے لئے آدھی بکری کا گوشت، لباس اور روٹی مقرر کردی۔

(تاريخ الخلفاء، امام سيوطی، ص59)

امام عالی مقام سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: دیکھو! یہ اونٹنی جس کا ہم دودھ پیتے ہیں اور یہ بڑا پیالہ جس میں کھاتے پیتے ہیں اور یہ چادر جو میں اوڑھے ہوئے ہوں یہ سب بیت المال سے لیا گیا ہے۔ ہم ان سے اسی وقت تک نفع اٹھاسکتے ہیں جب تک میں مسلمانوں کے امور خلافت انجام دیتا رہوں گا۔ جس وقت میں وفات پاجائوں تو یہ تمام سامان حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دے دینا۔ چنانچہ جب آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا تو ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے یہ تمام چیزیں حسب وصیت واپس کردیں۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے چیزیں واپس پاکر فرمایا:

’’اے ابوبکر! اللہ آپ پر رحم فرمائے کہ آپ نے تو اپنے بعد میں آنے والوں کو تھکادیا ہے‘‘۔

(تاريخ الخلفاء، امام سيوطی، ص60)

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ اور بارگاہِ رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خصوصی اہمیت و فضیلت حاصل تھی۔ قرآن مجید کی تقریباً 32 آیات آپ کے متعلق ہیں جن سے آپ کی شان کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ پر جس کسی کا احسان تھا میں نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے مگر ابوبکر کے مجھ پر وہ احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ تعالیٰ روز قیامت انہیں عطا فرمائے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سے اکتسابِ فیض کرتے ہوئے اپنے اقوال، اعمال اور احوال بدلنے کی توفیق عطا فرمائے اور محبتِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خیرات سے ہمارے قلوب و ارواح کو منور فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم۔