ایک بہادر فلسطینی لڑکی

عہد التمیمی اسرائیلی فوجیوں کے خلاف مزاحمت کرنے کے حوالے سے نہ صرف فلسطین بلکہ پوری دنیا میں شہرت رکھتی ہیں ،عہد التمیمی نے صرف بارہ سال کی عمر میں ہی صہیونی فوجیوں کا مقابلہ کرنا شروع کر دیا تھا اور آج بھی اس کے اسرائیلی فوجیوں کو مکے رسید کرنے کے
واقعات دنیا بھر کو یاد ہیں، جن میں عہد نے فقید المثال بہادری کا مظاہرہ کیا تھا۔

تاریخ پیدائش: 30 مارچ 2001ء جائے پیدائش: بنی صالح نامی گاؤں جو کہ فلسیطنی شہر رام اللہ میں واقع ہے۔ والد: باسم التمیمی (فلسطینی مزاحمت کار جنہیں بیسیوں مرتبہ اسرائیلیوں نے گرفتار کیا۔ والدہ: نازریمان التمیمی (فلسیطنی مزاحمت کار جو اسرائیلیوں کے ہاتھوں پانچ مرتبہ گرفتار ہوچکی ہیں۔ بھائی اوربہنیں: عہد التمیمی ، 3 بھائیوں وعد،محمد اور سلام کی اکلوتی بہن ہے۔ تعلیم:سیکنڈری کی طالب علم ہیں۔ عہد التمیمی بچپن سے ہی قابض یہودیوں کے خلاف سرگرم عمل ہو گئی تھیں ۔ چار سال کی عمر سے ہی اپنے والدین کے ساتھ اسرائیلوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی ریلیوں میں شرکت عہد کا وتیرہ بن چکا تھا۔عہد کے نزدیک اس قسم کی ریلیاں نکالنے سے فلسطینیوں کے اندر مزاحمت کی روح قائم رہتی ہے۔دسمبر 2012ء کو ترک دارالحکومت استنبول میں عہد کو ان کی بہادری پر حنظلہ نامی بہادری کے ایوراڈ سے نوازا گیا۔عہد کی ترکی میں موجودگی کے دوران ترک صدر رجب اردوان کے ساتھ یاد گار ملاقات بھی ہوئی جس میں اردوان نے عہد کی بہادری پر انہیں خراج تحسین بھی پیش کیا،اس وقت اردوان ترک وزیراعظم کے منصب پر فائز تھے۔19 دسمبر 2017 میں فجر کے وقت ایک اسرائیلی فوجی دستے نے عہد التمیمی کے گھر حملہ کرتے ہوئے عہد التمیمی کو گرفتار کیا،گرفتاری سے عہد کو ربڑ کی تین گولیاں لگیں اور ان کے ہاتھ میں فریکچر ہوا نیز گرفتاری کے دوران عہد کے اہلخانہ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اس فوجی دستے نے عہد کی والدہ کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ اپنی گرفتار ہونے والی بیٹی کے پیچھے رام اللہ کے شمالی علاقے میں واقع بنیامین نامی فوجی کیمپ کے گیٹ پر پہنچی۔اگلے روز عہد کے والد کو بھی کمرہ عدالت میں عہد کی پیشی کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔گرفتاری سے چار روز قبل عہد التمیمی اسرائیلیوں کیلئے اس وقت رسوائی کا باعث بنی جب اس نے اپنے گھر کے صحن میں کھڑے دو اسرائیلی فوجیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ان کے منہ پر تھپڑ مارے اور فوجیوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا۔اس واقع نے اسرائیلیوں کو آگ بگولہ کر دیا اور اسرائیلی میڈیا نے جلتی پر خوب تیل پھینکا جس کے بعد عہد کو گرفتار کیا گیا۔عہد کی گرفتاری پر اسرائیلی وزیر دفاع افیگڈور لیبر مین کا کہنا تھا کہ ہم لڑکی کے خاندان اور گھر والوں کو بھی نہیں چھوڑیں گے اور انہیں منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔لیبر مین کا جواب دیتے ہوئے عہد کے والد باسم التمیمی نے کہا کہ ہمیں نہ لیبر مین اور نہ ہی اس کی فوج روک سکتی ہے،جو ہونا چاہیے میرے گاؤں کے بچے وہ کر رہے ہیں اور ہمیں اپنے بچوں پر فخر ہے۔سوشل میڈیا پر ان تینوں تصاویر کو بھرپور پذیرائی ملی اور لاکھوں افراد نے صہیونی ریاست اور اس کی بزدل فوج کی وحشت کے خوب لتے لیے۔
اُمت کی سولہ سالہ بیٹی عہد التمیمی پراسرائیلی عدالت نے فرد جرم عائد کردیا ہے۔ اس موقع پر جج نے عہد تمیمی سے سوال کیا کہ ” تم نے کیسے فوجیوں پر مُکے برسائے”؟
تو عہد التمیمی نے جج سے کہا
“ہاتھ کھولو بتاتی ہوں”
#FreeAhedtamimi
#GroupPalestine #FreePalestine

Advertisements

فلسطین پر غاصبانہ قبضے کی تاریخ

پہلی جنگ عظیم کے موقع پر ڈاکٹر وائز مین جو اس وقت یہودیوں کے قومی وطن کی تحریک کا علمبردار تھا، انگریز حکومت سے اس نے وہ مشہور پروانہ حاصل کر لیا، جو اعلان بالفور کے نام سے مشہور ہے۔ اعلان بالفور کے وقت فلسطین میں یہودیوں کی کل آبادی پانچ فیصد بھی نہ تھی۔ اس موقع پر لارڈ بالفور اپنی ڈائری میں لکھتا ہے: “ہمیں فلسطین کے متعلق کوئی فیصلہ کرتے ہوئے وہاں کے موجودہ باشندوں سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صیہونیت ہمارے لیے ان سات لاکھ عربوں کی خواہشات اور تعصبات سے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے جو اس قدیم سرزمین میں اِس وقت آباد ہیں۔”

بالفور کی ڈائری کے یہ الفاظ آج بھی برطانوی پالیسی کی دستاویزات (Documents of British Policy) کی جلد دوم میں ثبت ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 1917ء میں یہودی آبادی جو صرف 25 ہزار تھی وہ پانچ سال میں بڑھ کر 38 ہزار کے قریب ہو گئی۔ 1922ء سے 1939ء تک ان کی تعداد ساڑھے چار لاکھ تک پہنچ گئی۔ جنگ عظیم دوم کے زمانے میں ہٹلر کے مظالم سے بھاگنے والے یہودی ہر قانونی اور غیر قانونی طریقے سے بے تحاشہ فلسطین میں داخل ہونے لگے۔ صیہونی ا یجنسی نے ان کو ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں فلسطین میں گھسانا شروع کر دیا اور مسلح تنظیمیں قائم کیں، جنھوں نے ہر طرف مار دھاڑ کر کے عربوں کو بھگانے اور یہودیوں کو ان کی جگہ بسانے میں سفاکی کی حد کر دی۔

اب ان کی خواہش تھی کہ فلسطین کو یہودیوں کا “قومی وطن” کی بجائے “قومی ریاست” کا درجہ حاصل ہو جائے۔ 1947ء میں برطانوی حکومت نے فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش کر دیا نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو یہودیوں اور عربوں کے درمیان تقسیم کرنے کا فیصلہ صادر کر دیا۔ اس کے حق میں 33 ووٹ اور اس کے خلاف31 ووٹ تھے۔ دس ملکوں نے کوئی ووٹ نہیں دیا۔

آخر کار امریکہ نے غیر معمولی دباؤ ڈال کر ہائیٹی، فلپائن اور لائبیریا کو مجبور کر کے اس کی تائید کرائی۔ یہ بات خود امریکن کانگریس کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ یہ تین ووٹ زبردستی حاصل کیے گئے تھے۔ تقسیم کی جو تجویز ان ہتھکنڈوں سے پاس کرائی گئی، اس کی رو سے فلسطین کا 55 فیصد رقبہ 33 فیصد یہودی آبادی کو، اور 45 فیصد رقبہ 67 فیصد عرب آبادی کو دیا گیا۔ حالانکہ اس وقت تک فلسطین کی زمین کا صرف 6 فیصد حصہ یہودیوں کے قبضے میں آیا تھا۔ یہودی اس تقسیم سے بھی راضی نہ ہوئے اور انہوں نے مار دھاڑ کر کے عربوں کو نکالنا اور ملک کے زیادہ سے زیادہ حصے پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ آرنلڈ تائن بی اپنی کتاب A Study of History میں لکھتا ہے کہ: وہ مظالم کسی طرح بھی ان مظالم سے کم نہ تھے جو نازیوں نے خود یہودیوں پر کیے تھے۔ دیریا سین میں 9 اپریل 1948ء کے قتل عام کا خاص طور پر اس نے ذکر کیا ہے، جس میں عرب عورتوں، بچوں اور مردوں کو بے دریغ موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

عرب عورتوں اور لڑکیوں کا برہنہ جلوس نکالا گیا اور یہودی موٹروں پر لاؤ ڈ اسپیکر لگا کر جگہ جگہ یہ اعلان کرتے پھر رہے تھے کہ:”ہم نے دیریا سین کی عرب آبادی کے ساتھ یہ اور یہ کیا ہے، اگر تم نہیں چاہتے کہ تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ ہو تو یہاں سے نکل جاؤ”۔ ان حالات میں14 مئی 1948ء کو عین اس وقت جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی فلسطین کے مسئلہ پر بحث کر رہی تھی، یہودی ایجنسی نے رات کے دس بجے اسرائیلی ریاست کے قیام کا باقاعدہ اعلان کر دیا اور سب سے پہلے امریکہ اور روس نے آگے بڑھ کر اس کو تسلیم کیا۔ حالانکہ اس وقت تک اقوام متحدہ نے یہودیوں کو فلسطین میں اپنی قومی ریاست قائم کرنے کا مجاز نہ کیا تھا۔ اس اعلان کے وقت تک 6 لاکھ سے زیادہ عرب گھر سے بے گھر کیے جا چکے تھے اور اقوام متحدہ کی تجویز کے بالکل خلاف یروشلم (بیت المقدس) کے آدھے سے زیادہ حصے پر اسرائیل قبضہ کر چکا تھا۔ پس یہی ہے وہ منحوس دن جس کو تاریخ ِ فلسطین میں یوم نکبہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

توسیع پسند و تسلط و طاقت کے نشہ میں مدہوش اسرائیل نے 1967ء میں تمام فلسطین پر قبضہ کر لیا اور مقامی باشندوں کو بے دخل کر دیا، یوں اس سرزمین کے اصل وارث لاکھوں کی تعداد میں اردن،لبنان اور شام میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے، مگر سامراجی اور استعماری ہتھکنڈوں نے انہیں یہاں سے بھی نکالنے کی سازش کی، چنانچہ ستمبر 1975ء میں اردن کی شاہی افواج نے یہاں پر مقیم فلسطینیوں پر ظلم کی انتہا کر دی۔ ان کا قتل عام کیا گیا، اس کے بعد ان فلسطینیوں کو لبنان میں پناہ پر مجبور کر دیا گیا۔ اس بھیانک ظلم کو سیاہ ستمبر کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔

15 مئی 1948ء کو دنیا پر ناجائز وجود پانے والی ریاست جسے امام خمینی نے مسلمانوں کے قلب میں خنجر سے تعبیر کیا تھا، مئی 2012ء کے وسط میں اپنے غاصبانہ قیام کی چونسٹھویں سالگرہ منا چکی ہے۔ یہ تمام عرصہ ایک طرف تو عالم اسلام کی اجتماعی بے حسی اور مظلوم فلسطینیوں سے مسلم حکمرانوں کے منافقانہ رویوں کی طویل اور دردناک داستانوں سے بھرا ہوا ہے تو دوسری طرف یہ 64 برس ظلم و بربریت وحشت و درندگی کی قدیم و جدید تاریخ سے بھرپور اور سفاکیت کے انمٹ مظاہروں کی پردرد و خوفناک کہانی کے عکاس ہیں ۔ ان چو نسٹھ برسوں میں ارضِ مقدس فلسطین میں ہر دن قیامت بن کر آیا ہے، ہر صبح ظلم و ستم کی نئی داستان لے کر طلوع ہوئی، ہر لمحہ بے گناہوں کے خون سے، گھر بار، سڑکیں، بازار، مساجد و عبادت گاہیں، سکول و مدارس کو رنگین کرنے کا پیامبر بن کر آیا ہے ۔

ناجائز ریاست اسرائیل کے حکمرانوں نے ان 64 برسوں میں خون آشامیوں کی جو تاریخ رقم کی ہے اس کی مثال تاریخ کے صفحات بیان کرنے سے قاصر ہیں۔کون سا ظلم ہے، جو بے گناہ، معصوم اور مظلوم قرار دیئے گئے ارض مقدس فلسطین کے باسیوں پر روا نہیں رکھا گیا بلآخردرماندہ، ظلم و ستم کی چکی میں پسنے والے اور اپنے وطن، گھر اور آبائی سرزمین کے حصول کی خواہش رکھنے والے فلسطینیوں نے استعماری سازشوں کا مقابلہ اور اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچانے کیلئے کارروائیاں شروع کیں۔ دوسری طرف اسرائیل کو عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ نے بہت زیادہ مالی و فوجی امداد دی اور ہر قسم کا تعاون کیا، حتیٰ کہ اقوام متحدہ میں پیش ہونے والی اسرائیل مخالف قراردادوں کو ویٹو کرنا بھی امریکہ نے اپنا وطیرہ بنا لیا، جبکہ امریکہ، اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی پاس کردہ قراردادوں پر عمل درآمد بھی نہیں ہونے دیتا۔ اس کشمکش میں اسرائیل نے لبنان پر بھی حملے کیے اور لبنان کے کئی علاقوں پر بھی قابض ہو گیا۔ یوں تحریک آزادی فلسطین کے بعد مزاحمت اسلامی لبنان نے بھی جنم لیا اور اسرائیل کی توسیع پسندی و تشدد پسندی کے خلاف قربانیوں کی داستانیں رقم کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔

ایک طرف تو یہ ظلم و ستم بڑھتا رہا اور دوسری طرف ظلم و سازشوں اور اپنوں کی بزدلی و منافقت کے شکار ارضِ مقدس فلسطین اور لبنان کے باسیوں میں ظالموں جابروں، ستم گروں اور منافقوں سے نفرت اور حقیقی قیادت و صالح مقاصد کے حصول کا جذبہ فروغ پاتا رہا۔ لبنان میں امریکی، فرانسیسی اور صیہونی فوجیوں کے خلاف خودکش دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ لوگ دُم دبا کر بھاگ کھڑے ہوئے اور فلسطین میں جہادی تحریکوں نے رفتہ رفتہ زور پکڑا اور آپس کے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر غاصب یہودیوں کے خلاف کارروائیوں کو تیز کیا۔اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف نہتے فلسطینیوں کی پتھر سے شروع ہونے والی تحریک غلیل سے ہوتی ہوئی کلاشنکوف اور راکٹ لانچر کے بعد میزائلوں تک پہنچ چکی ہے۔

آج فلسطین کی غیور ملت نے مزاحمت اور جہاد و شہادت کے جوہر عظیم کی شناخت کر کے عزت و سعادت کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ ارض فلسطین کی آزادی کیلئے ان 64 برسوں میں ہزاروں قیمتی لوگ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں، ان میں عام لوگ بھی ہیں اور تحریک آزادی کے قائدین اور مجاہدین بھی۔ گذشتہ برسوں میں شیخ احمد یٰسین، ڈاکٹر رنتیسی اور حماس و جہاد اسلامی کے قائدین کی عظیم قربانیوں نے شجاعت کی جو داستانیں رقم کی ہیں وہ راہنمائی کا درجہ رکھتی ہیں۔

آج فلسطین کے اندر یا باہر پیدا ہونے والے فلسطینی بچے کو جہاد و شہادت کی گھٹی دی جاتی ہے، ان کے کانوں میں شہادت و جہاد کے شعار کی اذان دی جاتی ہے۔ فلسطین کی عظیم مائیں ایثار و قربانی کے جذبہ سے سرشار ہو کر اپنے بچوں کی تربیت کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر عالمی سازشوں، ظلم و تشدد اور منافقت کے پروردوں کی غداری کے باوجود یہاں پر ارضِ مقدس فلسطین کی آزادی اور یہودیوں کو یہاں سے مکمل طو ر پر نکال باہر کر دینے کے جذبات اور احساسات غالب آچکے ہیں۔ آج ہر فلسطینی بچہ، بزرگ، نوجوان، خواتین، اس عزم پر آمادہ و تیار نظر آتے ہیں کہ وہ اپنی گردنیں تو کٹوا سکتے ہیں، لیکن ارضِ مقدس فلسطین پر ناپاک صہیونی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے اور اپنی دھرتی کا ایک ایک انچ اسرائیلی قبضے سے آزاد کرائیں گے۔ بشکریہ مبصر نیوز

Muslim students Organization

ﺗـــــــــﻌــــــــــﺎﺭﻑ۰
ﻣﺴﻠﻢ ﺳﭩﻮﮈﻧﭩﺲ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ 11ﺟﻨﻮﺭﯼ
2002ﺀﮐﻮ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ
ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺧﺎﻟﺼﺘﺎً ﻃﻠﺒﮧ ﮐﯽ ﺧﻮﺩ ﻣﺨﺘﺎﺭ
ﻧﻈﺮﯾﺎﺗﯽ ﻭﻓﮑﺮﯼ ﺗﻨﻈﯿﻢ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﯾﮏ
ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻧﺼﺐ ﺍﻟﻌﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺿﺢ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ
ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﺴﻠﻢ ﺳﭩﻮﮈﻧﭩﺲ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ
ﻭﮦ ﻭﺍﺣﺪ ﻃﻠﺒﮧ ﺗﻨﻈﯿﻢ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﺪﺍﺭﺱ ، ﮐﺎﻟﺠﺰ
ﺍﻭﺭ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﺎﻡ
ﮐﺮﺭﮨﯽ ﮨﮯ ۔ﻣﺴﻠﻢ ﺳﭩﻮﮈﻧﭩﺲ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ
ﻃﻠﺒﮧ ﺗﻨﻈﯿﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺳﮯ ﮨﭧ ﮐﺮ
ﺧﺎﻟﺼﺘًﺎ ﻃﻠﺒﮧ ﮐﯽ ﻓﮑﺮﯼ ﺫﮨﻦ ﺳﺎﺯﯼ ﺍﻭﺭ
ﻋﻤﻠﯽ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺳﺎﺯﯼ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ ۔
ﻣﺴﻠﻢ ﺳﭩﻮﮈﻧﭩﺲ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﮐﻠﭽﺮ
ﮐﮯ ﻓﺮﻭﻍ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺩﺭﺳﮕﺎﮦ ﮐﮯ ﺗﻘﺪﺱ ﮐﻮ
ﺍﺟﺎﮔﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﺮﯾﻀﮧ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔
ﻣﺴﻠﻢ ﺳﭩﻮﮈﻧﭩﺲ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ ﻃﻠﺒﮧ ﮐﻮ
ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺷﻌﻮﺭ ﺳﮯ ﺭﻭﺷﻨﺎﺱ
ﮐﺮﻭﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﮐﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﺮﺗﺒﮯ ﮐﯽ
ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮐﺮﻭﺍﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﻟﻐﺮﺽ ﻣﺴﻠﻢ
ﺳﭩﻮﮈﻧﭩﺲ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ ﺍﯾﮏ ﺷﻌﻮﺭ ﺑﯿﺪﺍﺭﯼ
ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮨﮯ ۔ ﻓﻼﺡ ﻭﺗﻘﻮﯼٰ ﮐﯽ ﺻﺪﺍ ﮨﮯ ۔
ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺳﺎﺯﯼ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ ۔
ﻧـــــــﺼــــﺐ ﺍﻟـــــــﻌــــــــــﯿــــــــــﻦ
ﻣﺴﻠﻢ ﺳﭩﻮﮈﻧﭩﺲ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺩ
ﻣﺨﺘﺎﺭ ﻃﻠﺒﮧ ﺗﻨﻈﯿﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻧﺎﻃﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﯾﮏ
ﻭﺍﺿﺢ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻧﺼﺐ ﺍﻟﻌﯿﻦ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ ۔
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ” ﻏﻠﺒﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺤﮑﺎﻡ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ
“ ﮨﮯ ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻟﻌﻤﻮﻡ ﺍﻭﺭ
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻟﺨﺼﻮﺹ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﺳﻨﺖ ﮐﮯ
ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﺎﻻﺩﺳﺘﯽ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻋﻤﻠﯽ ﺷﮑﻞ
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﺧﻼﻓﺖ ﺭﺍﺷﺪﮦ ﮨﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﺳﻨﺖ ﮐﯽ ﺑﺎﻻﺩﺳﺘﯽ ﺳﮯ
ﻣﻘﺼﻮﺩ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺭﯾﺎﺳﺘﯽ ﺍﺳﺘﺤﮑﺎﻡ ﮐﻮ
ﻣﻠﺤﻮﻅ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﮨﻢ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﯾﺎﺗﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩﻭﮞ ﮐﺎ
ﺍﺳﺘﺤﮑﺎﻡ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﺳﻨﺖ ﮐﯽ ﺑﺎﻻﺩﺳﺘﯽ ﻣﯿﮟ
ﮨﯽ ﻣﻀﻤﺮ ﮨﮯ۔