اک ستارہ تھا جو کہکشاہ ہو گیا۔۔۔۔

17 جون صبح نماز کے بعد جب اُٹھا تو دیکھا موبائل پر بیس سے زائد مِس بل لگی تھی،شاید زندگی میں میرے ساتھ پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ میرا موبائل سائیلنٹ موڈ پر لگ گیا اور مجھے علم نہ ہوا،دل بے چین ہوا۔اللہ خیر کرے،کال کرنے والے زیادہ تر بلاگرز یا جماعتی دوست احباب تھے۔اتنی دیر میں معاویہ بھائی کی کال آ گئی۔جب کال اُٹھائی تو معاویہ بھائی نے ہیلو کے بعد جو بات کہی وہ یہ تھی “بلال خان شہید ہو گیا ہے”۔جیسے میرے پیروں تلوں زمین کھسک گئی،آنکھوں سے بے دریغ آنسو بہنے لگے۔یقین نہیں آ رہا تھا کہ چند دن قبل جس سے بات کی ،ہستے مسکراتے،نڈر نوجوان جس نے اپنی زندگی کی صرف بائیس بہارے دیکھی تھی ہم سے جدا ہو گیا۔بلال خان شہید سے میرا تعلق غالباً سن 2012 میں بنا جب انھوں نے فیس بک پر لکھنا شروع کیا لیکن پہلی ملاقات دو سال قبل مری میں ہوئی پھر اس کے بعد مختلف پروگراموں میں ملنا جلنا رہا۔بلال بھائی حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ نڈر اور بے باک فری لینسر صحافی،بلاگراور وی لاگر تھے۔اپ انٹرنیشنل اسلامیک یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔آپ نے سوشل میڈیا یا زندگی کے کسی بھی پلیٹ فارم پر قدم رکھا اسکی بلندیوںجواد
چھو لیا۔کئی بار حق گوئی کی بنا پر آپ کے فیس بک اکاؤنٹ بلاک کیے گے، کئی بار مختلف انداز میں ڈرایا دھمکایا گیا لیکن بغیر کسی خوف اور ڈر کے آپ نے حق گوئی کا سفر جاری رکھا۔جس دور میں اداروں کے مظالم بڑھنے لگے بے قصور لوگوں کو گھروں سے اٹھایا جاتا ماورائے عدالت مار دیا جاتا اُس دور میں محمد بلال خان نے مظلوموں کے لیے سدا بلند کی۔آپ نے شام،فلسطین،برما افغانستان اور کشمیر کے مظلوموں کےلیے بھی سوشل میڈیا پر آواز بلند کی۔ختم نبوت بلخصوص آسیہ مسیح کیس میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔قادیانوں،رافضیوں اور ملحدین کو اپنے قلم کے زریعے ناکوں چنے چبھوائے۔بلال خان ایک سچا پاکستانی تھا جس نے ہمیشہ اپنے قلم سے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی۔
محمد بلال خان کسی کی پروہ کیے بغیر ہمیشہ سچ لکھتا بولتا رہا،کئی ایک رہبروں کو جو رہزنوں کے بیس میں تھے کو اکسپوز کیا،جس کی وجہ سے کئی بار غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں کے تیر و نشتربرداشت کیے۔
بلال خان جہاں دفاع ختم نبوت ودفاع ناموس رسالت کا پروانہ وہی پر تحریک دفاع صحابہ کا دیوانہ تھا،دو سال قبل جب میں نے ٹویٹر پر ٹیم سولجرز آف صحابہ تشکیل دی تو میری بہت حوصلہ افزائی کی اور ہماری اس ٹیم کے روح روا رہے۔بلال دوسرے کے درد و غم کو اپنا درد و غم سمجھنے والا شخص تھا۔ایک دن مجھے unknown نمبر سے کال آئی اور مجھے دھمکی اور بلیک میل کیا گیا جب میں نے ایک جگہ ذکر کیا تو مجھے بہت حوصلہ دیا۔
اللہ رب العزت نے بلال خان کو بہت سی صلاحتوں سے نوازہ تھا انہی صلاحتوں کیوجہ سے چھوٹی سی عمر میں بلال نے اپنا آپ منوایا۔
محمد بلال خان ایک نا ڈر اور حق گو انسان تھا کئی بار برملا یہ اظہار کیا کہ مجھے یقین ہے کہ میں مار دیا جاؤ گا۔ایک بار میں نے کہا بلال بھائی اپنی قلم میں مصالحہ کم رکھا کرے اور احتیاط کیا کرے کہی آپ بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں نا آ جائے تو مسکرا کر کہنے لگے ایسا نہیں ہو گا مجھے سیدھا ٹپکا دیا جائے گالیکن مجھے یقین ہے جو رات قبر میں ہے وہ آئی گی۔دفاع ناموس رسالت، دفاع ناموس صحابہ،دفاع پاکستان اور حق گوئی آپ کا جرم ٹھہرا۔بزدل دشمن نے دلیل کے بجائے خنجر کا استعمال کیا اور بڑی بے دردی سےاسلام آباد میں شہید کیا
محمد بلال خان کی شہادت کی خبر سن کر مجھ سمیت جہاں انکے دوست احباب اور رفقاء غم سے نڈھال ہوئے وہی پر ماروی سرمد اور اقرار الحسن جیسے لوگ جو بلال بھائی سے شدید اختلاف رکھتے تھے غمگین نظر آئے۔۔۔۔
محمد بلال خان کی پہلی نماز جنازہ اسلام آباد میں ادا کی گئی اور دوسری ایبٹ آباد میں ادا کی گئی اور وہی پر پرچم سپاہ صحابہ سمیت سپرد خاک کیا گیا۔اللہ تعالی محمد بلال خان کو کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے۔
دشمن نےمحمد بلال خان کو تو دبا دیا لیکن یہ بھول گیا کہ بلال تو آتے جاتے رہتے ہیں آذانیں جاری رہتے ہیں۔
~جواد
#justice4MuhammadBilalKhan

Advertisements

تین دن جنت میں۔۔۔

ہر سال کی طرح اس عید پر بھی دوستوں کے ساتھ سیر و تفریح کا پروگرام بنا جس کا پورے سال انتظار رہتا ہے کہ کب عید کی چھٹیاں ہو اور ہم گھومنے کے لیے نکل جائے۔اس سال گلگت جانے کا پروگرام بنا جو بعد میں کینسل کرنا پڑا۔پھر ہم دوستوں نے فیصلہ یہ کیا کہ کیوں نا جنت نظیر کشمیر کی سیر کی جائے۔کشمیر میں موجود ایک دوست سے معلومات لی گئی اور طے شدہ پروگرام کے تحت عید کے دوسرے دن ہم چار دوست جنمیں دانش، ریحان، عبداللہ اور میں شامل تھے نماز فجر کے بعد مری سے کشمیر کے لیے رختِ سفر باندھا،اور تقریباً ایک گھنٹے کے بعد مظفر آباد پہنچے جہاں ہم نے ناشتہ نوش فرمایا اور اگلی منزل جو وادی نیلم تھی کی طرف روانہ ہوگے۔ وادی نیلم اپنے بے مثال قدرتی مناظر،اونچائیوں سے بہتے جھرنوں اور سرسبز پربتوں،بل کھاتے دریاؤں سے لپٹی دھند سے بھرپور ایک خوابیدہ جنت کا سا تصور پیش کرتی ہے۔

اٹھمقام سے تاؤ بٹ تک یہ وادی ایک جانب استور ،دوسری جانب وادی کاغان اور تیسری جانب مقبوضہ کشمیر کے بانڈی پورہ سے جڑتی نظر آتی ہے۔وادی نیلم سیاحوں کیلئے بے پناہ کشش کا باعث ہے۔جہاں سالانہ ہزاروں سیاح کشمیر میں پوشیدہ جنت اراضی کو کھوجنے کیلئے رخ کرتے ہیں۔
دریائے نیلم ،تاؤبٹ کے مقام سے مقبوضہ کشمیر سے آزاد خطے میں داخل ہوتا ہے اور مظفر آباد اور کوہالہ سے ہوتا ہوا خود کو دریائے جہلم کے سپرد کردیتا ہے۔یاد رہے اس رومانوی مگر ہر لمحے بپھرے ہوئے دریا کا قدیم نام کشن گنگا ہے۔آج بھی اسے مقبوضہ علاقے میں کشن گنگا کے نام سے ہی جانا جاتا ہے لیکن پاکستانی حدود میں اسے اب نیلم کا نام دے دیا گیا ہے۔

تقریباً چار گھینٹوں کی مسافت کے بعد آٹھمقام پہنچے جو وادی نیلم کا صدر مقام آٹھمقام ہے۔جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے گئے راستہ بھی سرسبز پہاڑوں سے گزرتا ہوا بلند سے بلند تر ہوتا چلا گیا۔اٹھمقام ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جس کے فوراً بعد کنڈل شاہی اور پھر چلیانہ کا مقام آیا جہاں سے لائن آف کنٹرول شروع ہوجاتی ہے۔خیال رہے نیلم وادی میں ہر وقت شناختی کارڈ اپنے ساتھ رکھیں۔اب جابجا فوجی چوکیاں دکھائی دے رہی تھیں اور مستعد فوجی اہلکار شناختی کارڈ کی چیکنگ کر رہے تھے۔کچھ ہی دور ہمارے دائیں طرف وادی نیلم کے پار نیچے گہرائی میں ایک چھوٹا سا قصبہ نظر آیا۔ جہاں ایک سکول کا میدان اور اس کے آس پاس گھر نظر آ رہے تھے۔یہ ٹیٹوال کا قصبہ تھا جو کہ مقبوضہ کشمیر کا سرحدی علاقہ ہے۔یہاں سے ایک سڑک مقبوضہ وادی کے اندر جاتے دکھائی دے رہی تھی۔یہاں سے لائن آف کنٹرول اگلے تین گھنٹے کے سفر میں ہمارے شانہ بشانہ چلتی ہے۔اس راستے میں مختلف جگہ پر تختیوں پر واضح لکھا گیا ہے Be Care Full,you are at LOC۔
آٹھمقام سےتیس منٹ کی مسافت کے بعد ہم اپنی پہلی منزل کیرن پہنچے۔کیرن پہنچتے ہی ہم نے سب سے پہلے نماز ظہر ادا کی۔کیرن میں سیاحوں کیلئے بہت ہی حسین ریزارٹ دریائے نیلم کے کنارے پر واقع ہیں۔جہاں نیلم کے دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کا گاؤں واقع ہے جو کہ کیرن ہی کہلاتا ہے۔دونوں حصوں کے درمیان حد فاضل دریائے نیلم ہے جو اس جگہ پر کچھ وسیع ہوجاتا ہے۔یہاں دونوں اطراف بلند بالا اور سبزے سے مزین پہاڑ موجود ہیں جن پر دیار کے گھنے جنگلات ماحول کو رومانویت سے بھر دیتے ہیں۔یہاں مجھے کیرن کے دونوں حصوں میں نمایاں فرق محسوس ہوا۔پاکستانی کیرن میں جا بجا کشمیری پشمینہ شالوں،کی دکانیں موجود ہیں،لوگ کشمیر کے روایتی پکوڑوں اور دیگر کھانوں کا لطف اٹھاتے نظر آتے ہیں اور کہی پر خوبصورت قدرتی نظاروں میں دوستوں کے ساتھ سلفیاں بناتے نظر آتے ہیں۔نیلم ریزاٹ میں ہر طرف گہما گہمی ہے۔مگر دوسری جانب مقبوضہ کیرن کی خالی خالی سی پگڈنڈیوں میں کبھی کبھار کچھ بچے دوڑتے نظر آتے ہیں اور کہیں کہیں انڈین فوج ہمہ وقت لائن آف کنٹرول پر نظریں گاڑے موجود رہتی ہے۔ذرااوپر ہمیں پہاڑ کی چوٹیوں پر سرحدی باڑ بھی دھوپ میں چمکتی دکھائی دی۔بھارتی فوجی اپنے کیرن کے لوگوں کی باقاعدہ گنتی کرتے ہیں۔اسی لئے اس علاقے میں خوف کی فضا ہر وقت موجود رہتی ہے،مجھے یہاں پر کچھ ویران گھر بھی نظر آئے۔جبکہ ہماری طرف کیرن میں ہر لمحہ زندگی اپنے جوبن پر نظر آتی ہے اور جگہ جگہ سبز ہلالی پرچم لہراتے نظر آ تے ہیں۔شائد کیرن کے دونوں کے اطراف بیک وقت اداسی اور خوشی کا فرق اس لئے بھی نظر آتا ہے کیونکہ ہمارے کیرن میں آزاد فضا کا تاثر ہر لمحہ جاگزین رہتا ہے۔جبکہ ہماری طرف بھی پاک فوج کے چاک و چوبند جوان اپنے مورچوں میں براجمان مادر وطن کا دفاع جانفشانی سے کرتے نظر آتے ہیں۔کیرن سے اوپر ایک راستہ نیلم گاؤں کی طرف بھی نکلتا ہے جہاں سے مقبوضہ علاقے کا خاصی گہرائی میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔اس پہاڑی پر ایک جھوٹا سا ریسٹورنٹ بنایا گیا ہے ہم نے یہاں پر بیٹھ کر چائے کے ساتھ پکوڑے کھائے اور اگلی منزل شادر کی جانب روانہ ہوگئے۔

راستے میں دیواریاں کا مقام آیا جہاں سے رتی گلی کے لئے پیدل ٹریک نکلتا ہےجو برف کے باعث بند تھا۔
دواریاں سے آگے سڑک انتہائی خطرناک ہے۔یہ سڑک سنگلاخ چٹانوں کو کاٹ کر بنائی ہے۔یہاں ڈرائیور کی ایک ذرا سی غفلت یا بے احتیاطی بڑے حادثے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔کیرن سے تقریباً ایک گھنٹے بعد دریائے نیلم کنارے،شاردہ کا حسین مقام آ جاتا ہے۔
رات کے تقریباً دس بج رہے تھے بھوک بھی شدید لگی ہوئی تھی دوستوں کی مشوارت کے بعد طعام و قیام شادرہ بازار میں ایک ہوٹل پر کیا گیا۔یہاں یہ ذکر کرتا چلو۔آپ جب بھی وادی نیلم کی طرف جائے کوشش کرے ایک دن کا کھانا گھر سے بنا کر لے کر جائےاور باقی دن کھانا خود بنا لیا جائے کیونکہ یہاں پر کھانا انتہائی ناقص ملتا ہے۔جو آپ کو مشکل میں ڈال کر آپکے کے ٹوور کی ستاناس کر سکتا ہے۔
صبح ناشتے کے فوراً بعد ہم لوگ شادرہ ٹورسٹ ویلج کی طرف روانہ ہوئے جو دریا کے دوسری طرف ہے۔یہاں شاردہ کی قدیم یونیورسٹی کے کھنڈرات کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

جس کی تاریخ وہاں پر کچھ یوں درج ہے۔

حوالہ تاریخ ہند قبل از تاریخ مشہور مسلمان البیرونی اپنی کتاب ،کتاب الہند ،میں شاردہ کا کچھ یوں ذکر کرتے ہیں، سری نگر کے جنوب مغرب میں شاردہ واقع ہے،اہل ہند اس مقام کو انتہائی متبرک تصور کرتے ہیں،اور بیساکھی کے موقع پر ہندوستان بھر سے لوگ یہاں کےلئے آتے ہیں،لیکن برفانی اور دشوار گزار علاقوں کے باعث میں خود وہاں نہیں جا سکا ، شاردہ یونیورسٹی کا قدیم نام شاردہ پتھ(Sharda Peth)ہے،پتھ Pethقدیم سنسکرت زبان سے تعلق رکھتا ہے،اس کے لغوی معنی ایسی جگہ یانشست گاہ کے ہیں جس کو روانی تکریم سے نوازا گیا ہو،شمالی ہندوستان سمیت اکثر جگہوں پر یہ لفظ عالم قسم کے مذہبی اداروں کےلئے استعمال ہوتا رہا ہے کنشک اول (نیپال کا شہزادہ) کے دور میں شاردہ وسط ایشیا کی سب سے بڑی تعلیمی وتدریسی درسگاہ تھی،یہاں بدھ مت کی باقاعدہ تعلیم کےساتھ ساتھ تاریخ جغرافیہ،ہیت،منطق اور فلسفے پر مکمل تعلیم دی جاتی تھی اس درسگاہ کا اپنا رسم الخط تھا جو دیوتا گری سے ملتا جلتا تھا،اس رسم الخط کا نام شاردہ تھا اسی مناسبت سے موجودہ گاﺅں کا نام بھی شادرہ ہے اس عمارت کو کنشک اول نے24،تا27ءمیں تعمیر کروایا تھا ، شاردہ یونیورستی کی عمارت شمالاً جنوباًمستطیل چبوترے کی شکل میں بنائی گئی ہے،عمارت کی تعمیر آج کے انجینئرز کو بھی حیرت میں ڈال دیتی ہے ۔
یہ عمارت برصغیر میں پائی جانے والی تمام قدیمی عمارتوں سے مختلف ہے خاص کراس کے درمیان میں بنایا گیا چبوترہ ایک خاص فن تعمیر کا نمونہ پیش کرتا ہے جو بڑا دلچسپ ہے ، اس کی اونچائی تقریباً سوفٹ ہے اس کے چاروں طرف دیواروں پر نقش و نگار بنائے گئے ہیں جبکہ جنوب کی طرف ایک دروازہ ہے عمارت کے اوپر چھت کا نام ونشان باقی نہیں ہے ، تاہم مغرب میں اندر داخل ہونے کےلئے تریسٹھ(63)سیڑھیاں بنائی گئی ہیں آج بھی کچھ قبائلی تریسٹھ زیورات پر مشتمل تاج ہاتھی کو پہناتے ہیں اور پھر اس کی پوجا کرتے ہیں،تریسٹھ کا عدد جنوبی ایشیا کی تاریخ میں مذہبی حیثیت رکھتا ہے بدھ کے عقائد سے ملتی جلتی تصاویر اس میں آج بھی نظر آتی ہیں ان اشکال کو پتھر میں کریدکربنایا گیا ہے اس عمارت میں ایک تالاب بھی ہوتا تھا جو آج موجود نہیں ہے امراض جلد سے متاثرہ لوگ اس میں غسل کرتے اور شفاءپاتے تھے،کیونکہ یہاں آنےوالا پانی دو کلو میٹر دور سے سلفر ملے ہوئے تالاب سے لایا جاتا تھا،اس کے علاوہ کشمیر کے پہاڑوں کے دامن میں شردھ(شاردہ) نامی لکڑی کا حیرت انگیز بت تھا جس کے پاﺅں کو چھونے سے انسان کو ماتھے پرپسینہ پھوٹ پڑتھا ،نیز اشٹامی کی مقدس رات کے نصف پہر کو شاردہ تیر تھ کامرکزی حصہ کسی غیبی طاقت کی مدد سے جھومتا تھا ،بحوالہ (ابوالفضل آئین اکبری)۔

۔شاردہ میں کچھ دیر ٹھہر کر اب ہم کیل کی جانب روانہ ہوگئے جو کہ شاردہ سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ایک نہایت دلفریب قصبہ ہے۔شادرہ سے کیل تک سڑک ناپختہ ہے۔اس راستے میں ہر ایک کلو میٹر کے بعد بکر وال ملتے رہے جن کے قافلے میں سینکڑوں بکریاں ہوتی جو ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالتی اس طرح کیل کا سفر جو دو گھنٹوں کا تھا پانچ گھینٹوں میں طے ہوا۔

کشمیر میں جہاں اچھے کھانے اور اچھے ہوٹلوں کا مسئلہ ہے وہی پر پاکستانی موبائل نیٹ ورک کا مسئلہ ہے۔جب آپ کشمیر کا وزٹ کرے تو مظفرآباد سے Scom کی سِم خرید کر موبائل میں ڈال لے۔
کیل پہنچ کر جب گھر والوں سے رابطہ کے لیے نئی سِم خریدنے Scom کے دفتر پہنچے تو دفتر بند تھا، دفتر کے ساتھ ایک دوکاندار جن کا نام اعجاز تھا سے کال کے لیے جب موبائل مانگا تو اس نے فوراً موبائل دے دیا جب کال کرنے کے بعد موبائل میں نے اعجاز کو واپس دیا تو اس نے کہا آپ کتنے دن یہاں موجود ہیں تو میں نے کہاں ایک دن۔۔۔
اعجاز نے کہا آپ کو دوبارہ موبائل کی ضرورت ہوگی لہذا آپ میرا موبائل اپنے پاس رکھ لیں۔میں نے کہا موبائل آپ کو ضرورت ہوگا لہذا میں ایسا نہیں کر سکتا!
اعجاز کے اصرار پر میں نے اس سے کہا چلے آپ سِم دے دیں، اعجاز نے جواب دیا یقیناً اپ اپنے موبائل میں تصویرے بنائے گے تو یہ بند ہو جائے لہذا آپ میرا موبائل اپنے پاس رکھ لیں اور واپسی پر مجھے واپس کر دیجیے گا۔میں نے عبداللہ سے مشاورت کے بعد موبائل رکھنے کا فیصلہ کیا اور اپنی جیب سے شناختی کارڈ نکالکر اعجاز کو دیا کہ جب تک میں واپس آتا اپ یہ اپنے پاس رکھے،اس نیک شخص نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے کہا اس کی ضرورت نہیں۔یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کیل کے لوگ انتہائی مہمان نواز ہیں۔

کیل دفاعی لحاظ سے ایک حساس علاقہ ہے۔یہاں فوج کا ایک بریگیڈ تعینات ہے۔ہماری منزل اب اڑنگ کیل تھا ۔جو کہ کیل کے بالکل ساتھ ایک پہاڑ کے اوپر واقع ایک دلکش چراگاہ ہے ۔

اس چراگاہ کے پار گھنے جنگلات سے مزین پہاڑ کے پیچھے مقبوضہ کشمیر کا گریز کا علاقہ موجود ہے ۔پاک فوج نے یہاں پیلے رنگ کی ایک محفوظ لفٹ کا بندوبست کر رکھا ہے ۔جس کے ذریعے اڑنگ کیل پہنچا جاسکتا ہے ۔یہ لفٹ پہاڑ پر ایک مقام پر اتار دیتی ہے جہاں سے چالییس منٹ کا ٹریک کر کے اڑنگ کیل کا دیدار کیا جاسکتا ہے۔جب ہم لفٹ کے پاس پہنچے تو ایک لمبی قطار لگی تھی اور مغرب کا وقت بھی نزدیک تھا ہم نے فیصلہ کیا کہ رات کیل میں ہی گزاری جائے اور صبح سویرے اڑنگ کیل کی جانب روانہ ہوا جائے۔کیل ایک چھوٹا سا بازار ہے جہاں چند ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس بھی موجود ہیں۔رات ہم نے ایک گیسٹ ہاؤس میں گزاری۔صبح نماز فجر ادا کرنے کے بعد ہم نے ناشتہ کیا اور
اپنی اگلی منزل اڑنگ کیل کے لیے کچھ ضروری سامان اپنے ساتھ رکھ کر جب ہم لفٹ کے پاس پہنچے تو رات کی طرح ایک لمبی قطار لگی تھی آخرکار فیصلہ یہ ہوا کہ ٹریک کے زریعے اڑنگ کیل پہنچا جائے۔خیال رہے یہ ٹریک خاصا ناہموار اور اونچائی کی جانب واقع ہے لہذا دوران ٹریکنگ سٹک اپنے ہمراہ ضرور رکھے.

رات کو ہونے والی بارش کیوجہ سے سارا ٹریک کیچڑ سے بھرا پڑا تھا۔کئی لوگ تو ٹریکنگ سے تائب ہوگئے جبکہ کچھ سرفروش ہمارے ساتھ اڑنگ کیل کی طرف بڑھنے لگے اور کیچڑ،پھسلن اور بارش کے باوجود آخر کار اڑنگ کیل پہنچ گئے ۔یقین مانئے اتنی جدوجہد کے بعد اوپر ایک اور ہی منظر ہماری راہ دیکھ رہا تھا۔ہمارے سامنے سبز گھاس کا جیسے ایک فرش ایستادہ تھا۔

اور اس پر لکڑی کے خوبصورت گھر بنے ہوئے تھے۔جبکہ اس گھاس کے عقب میں گھنے جنگل سے بھرپور سرسبز پہاڑ، ماحول کو مزید تابناک بنا رہا تھا۔یہ خوبصورت منظر دیکھ کر راستے کی ساری تھکاوٹ دور ہوگئی۔سارا دن ہم نے یہی پر گزار اور وقت کا احساس تک نا ہوا۔دل یہ چاہ رہا تھا کہ بس یہی کے ہوکر رہ جائے نا چاہتے ہوئے بھی ہمیں واپسی کا راستہ اختیار کرنا پڑا اور ہم بہت سی حسین یادیں لے کر بزریعہ لفٹ کیل پہنچے اور مری کی طرف واپس روانہ ہوگے۔

۔وادی نیلم کے اس سفر میں جہاں کیرن ،شاردہ اور اڑنگ کیل کے دلکش نظاروں نے دل موہ لئے وہاں کشمیریوں کی مہمان نوازی نے بھی یقیناً ہم کو ازحد متاثر کیا۔کشمیر کے اس حسین خطے نیلم ویلی ضرور آئیے جہاں روح کو تازگی بخشنے کے لئے قدرت نے سارا سامان وافر مقدار میں جمع کر رکھا ہے۔شہنشاہ جہانگیرنے کشمیر کے متعلق درست ہی کہا تھا کہ دنیا میں اگر کہیں جنت ہے تو یہی ہے یہی ہے یہی ہے ۔

صحرا کا شیر

عمر مختار لیبیا پر اطالوی قبضے کے خلاف تحریک مزاحمت کے معروف رہنما تھے۔ وہ 1862ء میں جنزور نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1912ء میں لیبیا پر اٹلی کے قبضے کے خلاف اگلے 20 سال تک تحریک جہاد کی قیادت کی۔
اکتوبر 1911ء میں اٹلی کے بحری جہاز لیبیا کے ساحلوں پر پہنچے۔ اطالوی بیڑے کے سربراہ فارافیلی نے مطالبہ کیا کہ لیبیا ہتھیار ڈال دے بصورت دیگر شہر تباہ کر دیا جائے گا۔ حالانکہ لیبیائی باشندوں نے شہر خالی کر دیا لیکن اٹلی نے ہر صورت حملہ کرنا تھا اور انہوں نے تین دن تک طرابلس پر بمباری کی اور اس پر قبضہ کر لیا۔ یہیں سے اطالوی قابضوں اور عمر مختیار کی زیر قیادت لیبیائی فوجوں کے درمیان میں جنگوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
عمر مختار جو معلم قرآن تھے صحرائی علاقوں سے بخوبی واقف تھے اور وہاں لڑنے کی حکمت عملیوں کو بھی خوب سمجھتے تھے۔ انہوں نے علاقائی جغرافیہ کے بارے میں اپنی معلومات کا اطالوی فوجوں کے خلاف بھرپور استعمال کیا۔ وہ اکثر و بیشتر چھوٹی ٹولیوں میں اطالویوں پر حملے کرتے اور پھر صحرائی علاقے میں غائب ہوجاتے۔ ان کی افواج چوکیوں، فوجی قافلوں کو نشانہ بناتی اور رسد اور مواصلات کی گذرگاہوں کو کاٹتی۔اسی لیے اپکو گوریلا جنگ کا ماسٹر اور The lion of Desert کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

عمر مختار کی زیر قیادت مزاحمتی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے اطالویوں نے نئی چال چلی اور مردوں، عورتوں اور بچوں کو عقوبت گاہوں میں بند کر دیا۔ ان عقوبت گاہوں کا مقصد یہ تھا کہ مزید لیبیائی باشندوں کو عمر مختار کی مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے سے روکا جائے۔ ان کیمپوں میں ایک لاکھ 25 ہزار باشندے قید تھے جن میں سے دو تہائی شہید ہو گئے۔

اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو قید کرنے کے باوجود عمر مختار کی تحریک رکی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے ملک اور عوام کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد جاری رکھی۔

عمر مختار کی 20 سالہ جدوجہد اس وقت خاتمے کو پہنچی جب وہ ایک جنگ میں زخمی ہوکر اطالویوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے۔

اس وقت ان کی عمر 70 سال سے زیادہ تھی اور اس کے باوجود انہیں بھاری زنجیروں سے باندھا گیا اور پیروں میں بیڑیاں ڈال دی گئیں۔ ان پر تشدد کرنے والے فوجیوں نے بعد ازاں بتایا کہ جب انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا یا تفتیش کی جاتی تو وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قرآن مجید کی آیتیں تلاوت کرتے۔

ان پر اٹلی کی قائم کردہ ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور سزائے موت سنادی گئی۔ تاریخ دان اور دانشور ان پر عائد مقدمے اور عدالت کی غیر جانبداری کو شکوک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان سے جب آخری خواہش پوچھی گئی تو انہوں نے “انا للہ و انا الیہ راجعون” پڑھا۔

انہیں 16 ستمبر 1931ء کو سرعام پھانسی دے دی گئی کیونکہ اطالوی عدالت کا حکم تھا کہ عمر مختار کو پیروکاروں کے سامنے سزائے موت دی جائے۔
آج کل ان کی شکل لیبیا کے 10 دینار کے نوٹ پر چھپی ہوئی ہے جبکہ دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت ہالی ووڈ نے 1981ء میں ان کی زندگی پر ایک فلم “The Lion of Desert” یعنی “صحرا کا شیر” بنائی۔

عمر مختار کو شہید ہوئے ایک صدی ہونے والی لیکن اپ کا نظریہ اج بھی قائم دائم ہے آپ کی جنگی حکمت عملیاں آج بھی استعمال کی جارہی ہیں اسکی تازہ مثال افغان جہاد ہے

دو تصویریں اور دو کہانیاں

پہلے تصویر میں شکاری شیر کی طرح امریکیوں پر نظریں جمائے ہوئے انتہائی مہذب طریقے بیٹھے ہوئے وہی ملا ضعیف ہیں۔ جسے فرعونِ وقت، رذیل اعظم جنرل پرویز مشرف نے بے آبرو کرنے کی کوشش کی اور سفارتی اصولوں کی دھجیاں اڑا کر امریکیوں کے حوالے کیا۔

جیل صعوبتیں برداشت کی اور مصیبتوں کے دریا عبور کئے۔
ننگا کرکے بھوکے کتے چھوڑے گئے۔ لوہے سے داغا گیا۔

کوئی ظلم نہیں چھوڑا جو ان پر نہ کیا ہو۔
لیکن پھر اللہ کی شان دیکھیں۔
وہی ملا ضعیف اب امریکیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال اپنے مطالبات منوا رہا ہے اور سرخ امریکی سور ان کے سامنے بھیگی بلی بنی ہوئی ہے۔
جبکہ اب دوسرا تصویر ملاحظہ ہو۔
وہی فرعونی لہجے میں خود کو خدا سمجھنے والا پرویز مشرف جس نے سفارتکار ملا ضعیف کو قیدی بنا کر اپنے ناجائز باپ امریکہ کو پیش کیا تھا۔ اب اللہ کے غضب کا شکار ہیں اور ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ زندگی سے زیادہ موت کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ کمانڈو بن کر مکا لہرانے والا کتے کی موت مر رہا۔

سپرپاور امریکہ اور طالبان

آج متعدد اخبارات کی زینت یہ جملہ تھا

“امریکہ نے طالبان کے آگے گٹھنے ٹیک دیئے”

یہ پڑھ کر فورا مجھے امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد کے وہ جملے یاد آ گے جو انھوں نے 19 سال قبل جب امریکہ نے آفغانستان کی سر زمین پر قدم رکھنے کا سوچا تھا بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوٸے کہے تھے

یہ امریکہ کی بھول ہے کہ دوچار دن کی جنگ ہوگی یہ ایک لمبی گوریلہ جنگ ہوگی اور آخر میں فتح ہماری ہوگی”

” آٶگے تم اپنی مرضی سے لیکن جاٶ گے ہماری مرضی سے”